انوارالعلوم (جلد 18) — Page 214
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۱۴ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا سے عیسائی تھے اور اب ان کو آزاد حکومت مل گئی ہے ورنہ پہلے وہ مسلمانوں کے ماتحت تھے لیکن ان کو مجبور نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مذہب کو بدلیں۔مسلمان فلسطین میں گئے لیکن اُنہوں نے وہاں کے باشندوں کو تباہ نہ کیا بلکہ اب تک وہ قو میں موجود ہیں۔دوسرے مذاہب کو اختیار کر لینے سے ہم کسی کو نہیں روک سکتے۔وہ اگر مسلمان ہوئے تو اپنی مرضی سے۔اسی طرح مسلمان افریقہ میں گئے لیکن کوئی علاقہ ایسا نہیں جس کی نسل فنا ہو گئی ہو۔غرض جہاں جہاں مسلمان گئے وہاں کی اصلی قومیں اب تک موجود ہیں۔ان کے پہلو بہ پہلو عرب کے باشندے بھی بستے ہیں لیکن وہ قلیل تعداد میں ہیں۔اسی طرح ماریشس ہے، جاوا ہے، سماٹرا ہے، مڈغاسکر ہے، فلپائن ہے۔ان علاقوں میں سے جس جگہ بھی مسلمان گئے وہاں کے لوگوں کو ہر رنگ میں فائدہ پہنچایا انہوں نے کسی قوم کو مٹایا نہیں اور کسی قوم کی جگہ دنیاوی طور پر نہ لی بلکہ جہاں جہاں بھی مسلمان گئے وہاں اُن علاقوں کی قومیں ان کے زمانہ میں آباد در ہیں۔کسی ایک جگہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہاں کی قوموں کو مٹا کر مسلمانوں نے اُن کے مُلک پر قبضہ کر لیا ہو۔مگر ان ہی علاقوں میں جب یور بین اقوام گئیں تو انہوں نے وہاں کی ساری دولت اور جائدادیں اپنے قبضہ میں کر لیں اور وہاں کے اصلی باشندوں کو مٹا دیا۔مثلاً نیروبی ہے وہاں عربوں کا اتنا دخل تھا کہ وہاں کی زبان بگڑی ہوئی عربی ہے لیکن باوجود اس کے کہ نیروبی مسلمانوں کے ماتحت تھا وہاں کی جائدادیں وہاں کے اصلی باشندوں کے پاس رہیں اور اب تک وہ نسلیں چلی آتی ہیں لیکن جب وہاں انگریز گئے تو انہوں نے ان کی زمینوں اور جائدادوں پر قبضہ کر لیا اور کہا کہ حبشیوں کو چونکہ کبھی زمین پر قبضہ کرنے کا خیال نہیں آیا اس لئے یہ اپنے ملک میں زمینوں کے مالک نہیں ہو سکتے۔چنانچہ وہاں کی زمینیں کچھ انگریزوں میں بانٹ دی گئیں اور کچھ حکومت نے لے لیں۔ایک ایک انگریز کو بیس بیس میل لمبا علاقہ دے دیا گیا جسے وہ ہیں ہیں نسلوں تک بھی آباد نہیں کر سکتے۔لیکن عربوں نے کہا جس کی چیز ہے اُسے دے دو۔انگریز آسٹریلیا میں گئے اور وہاں کے باشندوں کی ایسی حالت کی کہ اس قوم کے اصل باشندوں کو آج تلاش کرنا سخت مشکل ہے اور اگر ان کو تلاش کیا جائے تو چند ہزار سے زیادہ نہیں ملیں گے حالانکہ وہ ہندوستان سے ڈیوڑھا ملک ہے۔امریکہ ہندوستان سے دو گنا ہے اور وہ سارے کا سارا آباد ہے لیکن اب تلاش کرنے سے بھی