انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 209

۲۰۹ انوارالعلوم جلد ۱۸ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام جماعت کا ہر فر د سائنس کے ابتدائی اصولوں سے واقف ہو جائے اور ابتدائی اصول اس کثرت کے ساتھ جماعت کے سامنے دُہرائے جائیں کہ ہمارے نائی ، دھوبی بھی یہ جانتے ہوں کہ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈ روجن سے بنا ہوا ہے۔یا روشنی آکسیجن لیتی ہے اور کار بن چھوڑتی ہے اگر اسے آکسیجن نہ ملے تو سمجھ جاتی ہے۔جب ان ابتدائی باتوں سے اکثر لوگ واقف ہو جائیں گے تو بعد میں آنے والے ان سے اوپر کے درجہ پر ترقی پا جائیں گے۔ایڈیسن جس نے ایک ہزار ایک ایجادیں کی ہیں وہ ایک کارخانے میں چپڑاسی تھا۔کارخانے میں جو تجربات ہوتے وہ ان کو غور سے دیکھتا رہتا۔اُس کی اس دلچسپی کو دیکھ کر ایک افسر نے اُسے ایسی جگہ مقرر کر دیا جہاں وہ کام بھی سیکھ سکتا تھا۔پھر اُسے ایسی درسگاہ میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ ایک حد تک علم سائنس سے واقف ہو سکے۔آخر وہ ایجادیں کرنے لگ گیا اور آج وہ دنیا کا سب سے بڑا موجد سمجھا جاتا ہے۔بجلی ، فونوگراف ،ٹیلیفون اسی طرح کی اور بہت سی چیزیں اس نے ایجاد کیں اور بعض چیزوں میں ایسی شاندار ترمیم کی کہ وہ ایک نئی چیز بن گئیں۔پس جن لوگوں کے دماغ سائنس سے مانوس ہوں وہ دوسری کتابوں سے امداد لے کر ترقی کر جائیں گے۔بعض لوگ بظاہر سکتے اور بے عقل سمجھے جاتے ہیں لیکن جب اُن کا دماغ کسی رف چلتا ہے تو حیران کن نتائج پیدا کرتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جو بہت زیادہ عقلمند اور ہوشیار نظر آئے وہی سائنس میں ترقی کرے۔اس وقت قادیان میں سب سے زیادہ کا میاب کارخانہ میاں محمد احمد خان کا ہے۔کچھ دن ہوئے مجھے ایک سائنس کا پروفیسر ملا تھا اُس نے مجھے حیرت کے ساتھ کہا کہ میک ور کس نے بہت ترقی کی ہے اور ان کی بعض چیزیں بہت قابلِ تعریف ہیں لیکن میاں محمد احمد خان جو اس کا رخانہ کے موجد ہیں اُن کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی ٹوپی رکھ کر بھول جاتے ہیں کہ کہاں رکھی ہے اور بعض دفعہ ٹوپی اُن کے سر پر ہوتی ہے اور وہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا کہ اُن کی ٹوپی ان کے سر پر تھی اور وہ اپنے ماموں میاں بشیر احمد صاحب کی ٹوپی بغل میں دبا کر چل پڑے۔میاں صاحب نے دیکھا کہ میری ٹوپی لئے جا رہے ہیں تو بلا کر کہا کہ اگر ٹوپی کی ضرورت ہے تو بے شک لے جاؤ ورنہ تمہاری ٹوپی تمہارے سر پر ہے۔غرض ایک طرف تو اُن کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میری ٹوپی میرے سر پر ہے یا نہیں