انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 208

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۰۸ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام یہ بہت مفید کام ہے اس میں جسمانی صحت بھی ترقی کرے گی اور آمدنی کا ذریعہ بھی ہو گا۔اس کے علاوہ نو جوانوں کو گھوڑے کی سواری، سائیکل کی سواری سکھائی جائے۔سائیکل کی سواری کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہوتی ہے کہ اُسے کھولنا اور مرمت کرنا آتا ہو کیونکہ بعض اوقات چھوٹی سی چیز کی خرابی کی وجہ سے انسان بہت بڑی تکلیف اُٹھاتا ہے۔پس ہمارے خدام کو مشینری کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے آجکل مشینوں میں برکت دی ہے جو شخص مشینوں پر کام کرنا جانتا ہو وہ کسی جگہ بھی چلا جائے اپنے لئے عمدہ گزارہ پیدا کر سکتا ہے۔آجکل تمام قسم کے فوائد مشینوں سے وابستہ ہیں اور جتنا مشینوں سے آجکل کوئی قوم دُور ہوگی اُتنی ہی وہ ترقیات میں پیچھے رہ جائے گی۔اسی طرح اگر خدام لوہار، ترکھان، بھٹی اور دھونکنی کا کا م سیکھیں تو ان کی ورزش کی ورزش بھی ہوتی رہے گی اور پیشے کا پیشہ بھی ہے۔چونکہ خدام کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے اگر خدام ایسے کام کریں تو وہ ایک طرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں گے اور دوسری طرف اپنا گزارہ پیدا کرنے والے ہوں گے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنا یہ ہمارا طرہ امتیاز ہونا چاہئے جیسے بعض تو میں اپنے اندر بعض خصوصیتیں پیدا کر لیتی ہیں۔وہ قو میں جو سمندر کے کنارے پر رہتی ہیں وہ نیوی میں بڑی خوشی سے بھرتی ہوتی ہیں لیکن اگر انفنٹری میں بھرتی ہونے کے لئے اُنہیں کہا جائے تو اس کے لئے ہرگز تیار نہیں ہو نگے۔اور اگر پنجاب کے لوگوں کو نیوی میں بھرتی ہونے کے لئے کہا جائے تو وہ اس سے بھاگتے ہیں لیکن انفنٹری میں خوشی کے ساتھ بھرتی ہوتے ہیں اور یہ صرف عادت کی بات ہے۔پس ہمارے خدام کو یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے کہ یہ مشینوں کا زمانہ ہے اور آئندہ زندگی میں وہ مشینوں پر کام کریں گے۔اگر کارخانوں میں کام نہ کرسکو تو ابتداء میں لڑکوں میں ان کھیلوں کا ہی رواج ڈالو جن میں لوہے کے پرزوں سے مشینیں بنانی سکھائی جاتی ہیں۔مثلاً لو ہے کے ٹکڑے ملا کر چھوٹے چھوٹے پل بناتے ہیں، پنگھوڑے، ریلیں اور اسی قسم کی بعض اور چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ایسی کھیلوں سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ بچوں کے ذہن انجینئر نگ کی طرف مائل ہوں گے۔یہ سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے اس لئے خدام الاحمدیہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری