انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 199

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۹۹ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام صحیح طور پر پتہ نہیں چل سکتا اور مرکز پر بیرونی جماعتوں کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔مرکز میں دفتر موجود ہے اور پھر یہاں ہر قسم کی واقفیت رکھنے والے آدمی پائے جاتے ہیں مگر کیا جو سامان قادیان کی مجالس کو حاصل ہیں وہی کیا باقی مجالس کو بھی حاصل ہیں؟ قادیان میں علم والے آدمیوں کی بہتات ہے اور اعلیٰ قابلیت رکھنے والوں کی بہتات ہے، نصیحت اور وعظ کرنے والوں کی بہتات ہے، جماعت کی کثرت کی وجہ سے ہر قابلیت کا آدمی مل سکتا ہے لیکن ان حالات کو بیرونی جماعتوں پر چسپاں نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر جگہ نہ اتنی قابلیتوں کے آدمی مل سکتے ہیں، نہ اتنے وعظ ونصیحت کرنے والے میسر آ سکتے ہیں، نہ وہاں جماعت کی اتنی کثرت ہے کہ خدام الاحمدیہ کے نظام کو جماعتی طور پر دباؤ ڈال کر قائم کیا جا سکتا ہو بلکہ بعض مقامات میں ایک احمدی ہے، بعض میں دو، بعض میں تین ، بعض میں چار، اس سے کم و بیش احمدی ہیں اور بعض مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی احمدی بھی تعلیم یافتہ نہیں ، بعض جگہوں پر قابل آدمی مل سکتے ہیں ، بعض جگہوں پر نہیں مل سکتے اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں قابل آدمی تو موجود ہیں لیکن ان کی قابلیت چھپی ہوئی ہے جب تک اُن کو اُبھارا نہ جائے اُس وقت تک وہ قابلیتیں ہمارے کام نہیں آسکتیں۔پس ضروری ہے کہ انسپکٹر مقرر کئے جائیں جو باہر کی جماعتوں کی پورے طور پر نگرانی کریں اور جو قانون مرکز میں جاری کئے جائیں ان کو رواج دینے کی کوشش کریں۔اس کے بعد میں خدام کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آئندہ سالوں میں ہاتھ سے کام کرنے کی روح کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور خدام سے ایسے کام کرائے جائیں جن میں وہ ہتک محسوس کرتے ہوں اور وہ کام انفرادی طور پر کرائے جائیں۔جس وقت قادیان کے تمام خدام جمع ہوں اور وہ سب ایک ہی کام کر رہے ہوں تو اُنہیں اُس وقت کسی کام میں ہتک محسوس نہیں ہوگی کیونکہ اُن کے دوسرے ساتھی بھی اُن کے ساتھ اُسی کام میں شریک ہوتے ہیں لیکن اگر ایک خادم اکیلا کوئی کام کر رہا ہو اور اُس کے ساتھی اُسے دیکھیں تو وہ ضرور ہتک محسوس کرے گا۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ اجتماعی طور پر کوئی کام نہ ہو بے شک اجتماعی طور پر بھی ہولیکن انفرادی کام کے مواقع بھی کثرت سے پیدا کئے جائیں۔مثلاً کسی غریب کا آٹا اُٹھا کر اُس کے گھر پر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کا چارہ اٹھا کر اُس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کی