انوارالعلوم (جلد 18) — Page 198
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۹۸ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پروگرام بنا دیں بلکہ ان قواعد کے نتائج سے پورے طور پر آگاہ ہونا بھی جیوریز کا فرض ہے اور انہیں علم ہونا چاہئے کہ انہیں ان قواعد کے بنانے سے کس حد تک اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے۔ہر قاعدہ کو جاری کرنے کے بعد دوباتیں دیکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ آیا وہ قاعدہ پورے طور پر جاری ہوا ہے یا نہیں۔دوسرے یہ کہ اس کے نتائج کیسے پیدا ہوئے ہیں۔اگر کسی جگہ پر بھی اس کے نتائج پیدا نہیں ہوئے تو وہ قاعدہ غلط ہے اور اگر بعض جگہ پیدا ہوئے ہیں اور بعض جگہ پیدا نہیں ہوئے تو یا تو اُس قاعدہ پر وہاں عمل نہیں کیا گیا اور اگر وہاں اُس قاعدہ پر عمل کرنے کے با وجودا اچھے نتائج پیدا نہیں ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ وہ قاعدہ اس مقام وگروہ کے لئے مفید نہ تھا اور اس کا علاج کچھ اور تھا۔اگر اس گروہ نے اس قاعدہ پر عمل نہیں کیا تو اس پر عمل کرانا چاہئے تھا اور اگر عمل کے بعد بھی اصلاح نہیں ہوئی تو کوئی اور ذریعہ اصلاح کا سوچنا چاہئے۔اگر ایک ہی علاج تمام انسانوں کے لئے کافی ہوتا تو قرآن مجید میں ہر مسئلہ کے متعلق ایک ہی دلیل بیان ہوتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید ہر رکوع میں ایک نئی دلیل دیتا ہے بلکہ ہر آیت میں ایک نئی دلیل دیتا ہے۔پس مختلف انسانوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں، مختلف روحانی بیماریوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں اور مختلف وقتوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں۔ایک وقت میں ہم ایک دلیل مؤثر دیکھتے ہیں لیکن دوسرے وقت میں وہ دلیل بے فائدہ اور بے اثر نظر آتی ہے۔ایک دلیل ایک انسان کے لئے تو بہت مؤثر نظر آتی ہے مگر دوسرے کے لئے بے اثر نظر آتی ہے۔پس اگر ہم نے انسانوں سے معاملہ کرنا ہے تو ہمیں ان مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا جو ان کے راستہ میں پیش آتی ہیں۔جب تک ہم پوری کوشش کے ساتھ مختلف افراد کی بیماریوں اور ان بیماریوں کی نوعیتوں کی تشخیص نہیں کر لیتے اُس وقت تک نہ ہم بیماری کا پتہ لگا سکتے ہیں اور نہ اس کا صحیح علاج کر سکتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے مرضوں کا صحیح طور پر علاج بغیر انسپکٹڑوں کے نہیں ہو سکتا۔پس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو چاہئے کہ وہ اپنے انسپکٹروں کو مختلف علاقوں میں دوروں کے لئے بھیجے جب وہ دوروں سے واپس آئیں تو اُن سے صحیح حالات معلوم کئے جائیں۔اور انسپکٹروں سے دریافت کیا جائے کہ سستی دکھانے والی جماعتوں کی سستی کی وجوہ کیا ہیں؟ اور پھر اس کا علاج کیا جائے۔مرکز میں بیٹھے رہنے سے ان حالات کا