انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 185

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۸۵ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی اب جب کہ مسلمان ایک متحدہ محاذ قائم کر چکے ہیں کانگرس کا یہ فیصلہ اُن لوگوں کے لئے بھی تکلیف دہ ثابت ہوا ہے جو اس وقت تک کانگرس سے ہمدردی رکھتے تھے۔مجھے کانگرس سے اختلاف ہے اور بہت سخت اختلاف ہے مگر میں اس امر کا ہمیشہ قائل رہا ہوں کہ ہند و مسلم اتحاد کی بنیاد ہندوؤں کی طرف سے کانگرس کے ذریعہ سے ہی پڑ سکے گی اور اس اتحاد کی آرزو میں شملہ کا نفرنس کے ایام میں مجھے شکوہ مسلمان نمائندوں سے ہی پیدا ہوتا رہا ہے اور بار بار میرے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ چالیس کروڑ انسانوں کی آزادی کے لئے اگر مسلمان اپنے کچھ اور حق چھوڑ دیں تو کیا حرج ہے لیکن کانگرس کے اس اعلان نے کہ اب وہ مسلم لیگ سے بات نہیں کرے گی بلکہ مسلمان افراد سے خطاب کرے گی میرے جذبات کو بالکل بدل دیا اور میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ دروازہ سے داخل ہونے میں ناکام رہے ہیں اب وہ سرنگ لگا کر داخل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے معنی مسلم لیگ کی تباہی نہیں بلکہ مسلم کیریکٹر اور مسلم قوم کی تا ہی ہے۔پس اُسی وقت سے میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جب تک یہ صورتِ حالات نہ بدلے ہمیں مسلم لیگ یا مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئے۔گو ہم دل سے پہلے بھی ایسے اکھنڈ ہندوستان ہی کے قائل تھے جس میں مسلمان کا پاکستان اور ہندو کا ہندوستان برضاء ورغبت شامل ہوں اور اب بھی ہمارا یہی عقیدہ ہے بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی ایک حکومت قائم ہو، تا باہمی فسادات دور ہوں اور انسانیت بھی اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہو مگر ہم اس کو آزاد قوموں کی آزاد رائے کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں جبر اور زور سے کمزور کو اپنے ساتھ ملانے سے یہ مقصد نہ دنیا کے بارہ میں پورا ہوسکتا ہے اور نہ ہندوستان اس طرح اکھنڈ ہندوستان بن سکتا ہے۔میں نے یہ اُمور اس لئے بیان کئے ہیں تا ہماری جماعت اور ہندوستان کی دوسری جماعتیں میری اس رائے کو بخوبی سمجھ سکیں جو میں آئندہ انتخابات کے متعلق دینے والا ہوں۔جو صورتِ حالات میں نے اوپر بیان کی ہے، اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئے تا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلا خوف تردید کانگرس سے یہ کہہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اگر ہم اور -