انوارالعلوم (جلد 18) — Page 169
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۶۹ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں ایسے لوگوں کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہئے۔کیونکہ اگر ایک شخص ساری عمر بھی کھانا کھاتا ہے لیکن صرف دس دن کھانا نہ کھائے تو وہ یا تو مر جائے گا یا مرنے کے قریب پہنچ جائے گا۔اگر ایک شخص ہزار سال میں نو سو ننانوے سال اور تین سو پچاس دن تک کھانا کھاتا رہے لیکن صرف دس پندرہ دن نہ کھائے تو اُس کا پچھلا کھایا ہوا آئندہ نہ کھانے والے دنوں میں کام نہیں آئے گا۔یہی حال انسان کی روحانی زندگی کا ہے اگر اس کو روحانی غذا نہ ملے تو ایسے شخص کی زندگی خطرہ میں پڑ جاتی ہے اور وہ یا تو مر جاتا ہے یا مرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن اگر وہ اپنی حالت کی طرف توجہ کرے اور توبہ واستغفار کرے تو اسے اللہ تعالیٰ موت کے گڑھے سے نکال لیتا ہے اور اگر توجہ نہ کرے اور اپنی اصلاح کے لئے نیکی کی طرف قدم نہ اُٹھائے تو اُس پر موت وارد ہو جاتی ہے۔پس تھوڑا سا کام کر کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے اپنی آخرت کے لئے بہت کچھ کر لیا ہے یہ محض نفس کا دھوکا ہے۔یہ ایسی ذہنیت ہے جو عملی حالت کو خراب کر رہی ہے اور اگر ہماری جماعت بھی اس رو میں بہہ جائے تو یہ قابلِ افسوس بات ہو گی۔میں دیکھتا ہوں کہ نمازوں میں پھر سستی پیدا ہو رہی ہے۔آج اس مسجد میں پہلے سے آدھی قطاریں نماز پڑھنے والوں کی ہیں میرے بیمار ہونے سے اللہ تعالیٰ تو بیمار نہیں ہو گیا۔وہ تو دیکھتا ہے کہ کون مسجد میں آیا ہے اور کون نہیں آیا۔دوست آج محلوں میں جا کر لوگوں سے پوچھیں کہ کیا میرے بیمار ہونے سے اللہ تعالیٰ بھی بیمار ہو گیا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے۔کیا اب اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ نہیں رہا جیسے پہلے دیکھتا تھا کہ کون مسجد میں آیا ہے اور کون نہیں آیا۔یا ان کو ضرورت نہیں رہی کہ وہ اس مسجد میں آ کر نماز ادا کریں۔میرے نزدیک نہ آنے والے لوگوں کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسے سکول کے بچوں کی ہوتی ہے۔اگر استاد کی توجہ کسی دوسری طرف ہو جائے یا استاد کلاس میں نہ رہے تو بچے تختیاں رکھ کر آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے کام کو بھول جاتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں نے یہ بھی سمجھ لیا ہے کہ میں تو مسجد میں آتا نہیں اس لئے انہیں مسجد میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔بچے تو نادان ہوتے ہیں اس لئے وہ دوسری طرف مشغول ہو جاتے یا آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں لیکن مومن تو بہت عقلمند اور بیدار مغز ہوتا ہے اس کا مقصد ہر وقت اس کی آنکھوں کے سامنے رہنا چاہئے۔بیشک استاد کی غیر حاضری میں بچے جو کچھ کرتے ہیں اسے ان