انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 165

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۶۵ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں ( تقریر فرموده ۱/۱۰ کتوبر ۱۹۴۵ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) میں نے اپنے خطبات میں جماعت کو کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ کام وہی بابرکت اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جس میں استقلال اور دوام کا رنگ پایا جائے۔یوں تو ادنیٰ سے ادنی اور ذلیل سے ذلیل انسان بھی کبھی نہ کبھی کوئی نیکی کر لیتا ہے لیکن اُس کا دو دن کے لئے نیکی پر کار بند ہونا اس بات کی علامت نہیں سمجھی جاسکتی کہ وہ فی الحقیقت نیک انسان ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کچھ عرصہ با قاعدہ نمازیں ادا کرتا ہے، باقاعدہ چندہ دیتا ہے، دین کے لئے قربانی بھی کرتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان سب باتوں کو چھوڑ دیتا ہے تو کوئی عقلمند انسان ایسا نہیں جو ایسے شخص کو کامل طور پر ایماندار یا متقی سمجھ سکے۔ہمارے ملک کی مساجد میں سے کچھ مساجد ایسی بھی ہیں جو کنچنیوں کی بنوائی ہوئی ہیں یا بعض ایسے لوگوں کی بنوائی ہوئی ہیں جن کی ساری عمر ظلم و تعدی اور دوسری بدعات میں گزری لیکن جب وہ مرنے کے قریب پہنچے تو کوئی مسجد یا کنواں یا مدرسہ یا لائبریری بنوا دی اور اس کے بنوانے کے بعد اُنہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کام کر دیا ہے اور مسجد یا کنواں یا مدرسہ یا لائبریری بنوا کر اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا احسان کر دیا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا کوئی حق نہیں کہ آخرت میں اُن سے اُن کے اعمال کے متعلق باز پرس کرے۔گویا اصل مالک وہ ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن کا محتاج ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہود کی اسی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ ایسے جاہل اور بے وقوف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کہتے ہیں کہ اصل مالدار تو ہم ہیں اور اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللہ فقیر اور محتاج ہے جو اپنے دین کی اشاعت کیلئے ہم سے پیسے مانگتا ہے یہ سب باتیں وہ تمسخر سے کہتے تھے حالانکہ جتنا لمبا سلسلہ انبیاء کا بنی اسرائیل میں گزرا ہے