انوارالعلوم (جلد 18) — Page 159
۱۵۹ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید انوارالعلوم جلد ۱۸ کے آگے اعتراض کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید وہ اس کو بیان نہ کر سکا ہو کیونکہ بعض اوقات کچھ باتیں بیان کرتے ہوئے نظر انداز ہو جایا کرتی ہیں اس لئے شاید کچھ حصہ نظر انداز ہو گیا ہو تو میں اعتراض کو مضبوط کر کے پھر اس پر غور کرتا ہوں اور جب خدا تعالیٰ مجھے اس کا جواب سمجھاتا ہے تو وہ مکمل جواب ہوتا ہے۔اور جب میں کسی اعتراض کا جواب دیتا ہوں تو وہ اُس کی تسلی سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور اُس میں اُس کے اعتراض سے بھی زیادہ مواد موجود ہوتا ہے۔لیکن اگر ہم نہیں اور تمسخر میں اُس کے اعتراض کو اُڑانے کی کوشش کریں تو ظاہر ہے کہ ہمارا جواب دشمن کے اعتراض کے بعض پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالے گا اور یقیناً خود کمزور ہوگا اور ساری حقیقت پر مشتمل نہیں ہوگا اس وجہ سے اعتراض کرنے والے کے دل میں بھی شکوک باقی رہیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف پر جتنے اعتراضات میں نے اپنے ذہن میں کئے ہیں شاید اتنے اعتراضات سارے مخالف اسلام مصنفین نے بھی نہ کئے ہونگے۔چونکہ میں نے قرآن شریف کے مضامین کو حل کرنے کیلئے بے دردی سے اعتراضات کئے اس لئے اس کی حقیقت بھی مجھ پر زیادہ کھلی اور جیسے ڈاکٹر جب پیٹ کی کسی بیماری کی وجہ سے اپنے بچہ کا آپریشن کرتا ہے اور اُس کا پیٹ پھاڑ دیتا ہے تو وہ اُس کا دشمن نہیں کہلا تا کیونکہ وہ خدمت کر رہا ہوتا ہے اور خارجی مواد کو نکال کر صحت کو درست کر دیتا ہے۔اسی طرح جب کبھی کوئی شخص قرآن شریف پر کوئی اعتراض اس لئے کرتا ہے کہ ہے تو یہ خدا تعالیٰ کی کتاب ،غلطی اس میں نہ نکلے گی میری عقل میں نکلے گی میں تو اس کے پوشیدہ معارف سمجھنا چاہتا ہوں ، میں اس میں جتنا بھی گہرا جاؤں گا اُتنی ہی اچھی چیز ملے گی اور میں مایوس واپس نہیں آؤں گا تو وہ ضرور کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ جب آپ قرآن شریف پر اعتراض کریں تو اللہ تعالیٰ پر تو کل ہو اور یہ خیال ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی مانگیں کہ یا اللہ! یہ اعتراض ہمارے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہو جائے۔اس کے ماتحت جب کبھی بھی میں نے غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے نئی باتیں سمجھا ئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور علم غیب پر مشتمل ہے۔پس اعتراض کے وقت آپ کو ڈرنا نہیں چاہئے کہ قرآن شریف پر اعتراض ہوگا تو کیا بنے گا۔اگر آپ ڈریں گے تو یہ ایسی ہی جہالت ہوگی جیسی بچے بعض دفعہ