انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 158

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۵۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید لگ جاتے ہیں یا بعض اوقات غصے میں آ جاتے ہیں یہ طریقہ صحیح نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب بھی کوئی آدمی آ کر کوئی سوال کرتا تو آپ اُس کا صحیح جواب دیتے اور کوئی ایچ بیچ نہ کرتے خواہ دشمنوں کو اس سے ہنسی کا موقع مل جاتا۔میرے پاس بھی ایک دفعہ دو مولوی دیو بند کے آئے۔اُن کو پتہ تھا کہ میں کسی مدرسہ میں نہیں پڑھا ہوا۔میں اُس وقت لاہور میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ان میں سے ایک آدمی نے آتے ہی سوال کیا آپ نے کیا پڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا میں نے آپ کی تعریف علم کے مطابق کچھ نہیں پڑھا۔وہ کہنے لگے آخر کسی مدرسے میں کچھ تو پڑھا ہوگا۔میں نے کہا میں نے کسی مدرسے میں کچھ نہیں پڑھا۔تو وہ کہنے لگے آپ نے کسی عربی کے مدرسے میں علوم اسلامی حاصل نہیں کئے ؟ میں نے کہا نہیں بالکل نہیں۔وہ کہنے لگے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ علوم اسلامی سے کورے ہیں میں نے مسکرا کر کہا بالکل نہیں۔اُس وقت اُس کے ساتھ جو دوسرا مولوی آیا تھا وہ بھی پہلے تو اعتراض میں شریک تھا لیکن اُس نے جب میرے چہرے پر نظر ڈالی تو مجھے مسکراتا دیکھ کر چپ نہ رہ سکا اور اپنے ساتھی سے کہنے لگا۔ان کا مطلب اس سے کچھ اور ہے۔اُس کے ساتھی نے کہا اور کیا مطلب ہوسکتا ہے واضح بات ہے۔اس پر دوسرے مولوی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ آخر اسلام کے مبلغ ہیں آپ کو اسلام کی کچھ تو واقفیت ہوگی۔میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس مکتبہ سے علم حاصل کیا تھا اُسی سے میں نے کیا ہے اور وہی کتاب میں نے پڑھی ہے۔میں دیو بند میں نہیں پڑھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدرسہ میں پڑھا ہوں۔بے شک میں آپ کے علم کے لحاظ سے بڑا جاہل ہوں جس طرح آپ جاہل ہیں میرے علم کے لحاظ سے۔میرے اس جواب سے اُن پر ایسی اوس پڑی کہ پھر نہیں بول سکے۔تو جب کوئی آپ پر اعتراض کرے یا کوئی سوال پوچھے تو اس کا صحیح جواب دینا چاہئے اُس کو موڑنا تو ڑنا نہیں چاہئے۔ہماری جماعت کے بعض دوست بعض اوقات دشمن کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو علم میں نے سیکھا ہے اس کا معتد بہ حصہ مجھے اسی طرح آیا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی دشمن قرآن شریف پر کوئی اعتراض کرتا ہے میں اس