انوارالعلوم (جلد 18) — Page 156
انوار العلوم جلد ۱۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید دُہراتے چلے جاتے ہیں صرف میاں مٹھو کہنا جانتے ہیں اور کچھ بھی نہیں جانتے۔پس آپ میں یہ قابلیت پیدا ہونی چاہئے کہ آپ نے جو قرآن شریف کی باتیں سنی ہیں ان کے لئے معنی استنباط کر کے دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔میرا خیال تھا کہ میں اس سلسلہ میں بعض ہدایات دوں لیکن اب وقت نہیں رہا دوسرے گلے کی خرابی کی وجہ سے بھی میں زیادہ بول نہیں سکتا لیکن میں نے اپنی بعض کتابوں میں قرآن شریف کی تفسیر کے اصول لکھے ہیں اُن کو پڑھیں اور اُن پر غور کریں اور اُن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ایک گر میں آپ کو بتا تا ہوں کہ کبھی اور کبھی اور کبھی بھی اپنے دشمنوں کی بات کو مروڑنے کی عادت نہ ڈالو۔جو دشمن کی بات کو مروڑتے ہیں وہ دشمن کی بات کو نہیں مروڑ تے بلکہ وہ اپنی عقل کو مروڑ تے ہیں۔میں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے کہ دشمن کی باتوں کو مضحکہ خیز بنا کر پیش کرتے ہیں اور پھر اُن پر خود ہنستے ہیں اور دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں بظاہر وہ اُس کا مذاق اُڑا رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً وہ اُس کا مذاق نہیں اُڑا رہے ہوتے بلکہ اپنے خود ساختہ خیالات کا مذاق اُڑا رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کا دماغ علم حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ وہ دشمن کے اعتراضوں کو مروڑتے ہیں اور اپنے مطلب کے مطابق پیش کرتے ہیں اور مصنوعی باتوں سے انسان کو پکڑنا چاہتے ہیں اور اس پر بڑے خوش ہوتے ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ لکھ لکھ کر بڑے خوش ہوتے تھے کہ مرزا غلام احمد تو مضمون نگار ہے اور حکیم نورالدین ایک طبیب ہے ہاں یہ مان لیتا ہوں کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی کچھ علمیت رکھتے ہیں اور پھر اس پر بڑے خوش ہوتے تھے کہ میں نے بڑا تیر مارا ہے لیکن اب مرنے کے بعد اُن کو کون یاد کرتا ہے؟ مگر یہاں خدا تعالیٰ ہر گھر ، ہر گاؤں اور ہر ملک سے لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لا رہا ہے اور ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلاموں کے قدموں میں ڈال رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے پہلے آپ کے پاس ایک شخص بیمار ہو کر آیا اور حضرت مسیح موعود کے سلوک کو دیکھ کر یہیں رہ پڑا۔وہ ایسا بے وقوف تھا کہ مٹی کا تیل کھانے میں ڈال کر کھا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ چکنائی ہی کھانی ہے کوئی دوسرا تیل نہ کھایا یہ کھا لیا۔اُس وقت یہاں تار گھر نہیں ہوتا تھا تار دینے کے لئے آدمی بٹالے جاتے تھے یہ بھی تار دینے کے لئے