انوارالعلوم (جلد 18) — Page 151
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۵۱ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ہیں لیکن وہ غلطیاں سرزد نہیں ہو سکتیں جو نچلے مقام والے انسان سے ہوئیں۔اسی طرح ایک تیسرا شخص ہے جو دوسرے شخص سے زیادہ اونچے مقام پر ہے اُس سے غلطیاں تو سر زد ہو سکتی ہیں لیکن وہ نہیں جو اُس سے نچلے مقام والے انسان سے سرزد ہوسکتی ہیں۔جرائم تو سب سے ہی ہوں گے لیکن جرائم کی نوعیت ہر مقام پر بدل جائے گی۔جو سب سے اوپر کے درجہ پر ہوگا اُس کے جرائم کی نوعیت اور ہوگی اور جو اُس سے نچلے درجہ پر ہوگا اُس کے جرائم کی نوعیت اور ہوگی اور جو سب سے نچلے درجہ پر ہو گا اُس کے جرائم کی نوعیت اور ہوگی۔جولوگ پڑھنے کے لئے نہیں جوس آئے وہ مجرم ہیں اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو موقع دیا کہ وہ روحانی آنکھیں پیدا کر لیں لیکن اُنہوں نے پیدا نہ کیں اور اندھے رہے۔اور تم میں سے جو آنکھیں پیدا کر لیں گے لیکن اس کے ذریعہ اندھوں کو راستہ نہیں دکھلائیں گے تو وہ مجرم ہوں گے اس بات کے کہ انہوں نے اندھوں کو پکڑ کر منزل مقصود تک کیوں نہ پہنچایا۔پس یہ مت خیال کرو کہ کسی صورت میں بھی تم ذمہ داری سے بچ سکتے تھے تم ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے تھے صرف تمہاری ذمہ داری کی نوعیت بدل سکتی تھی۔اگر تم قرآن کریم پڑھنے نہ آتے تو تم پر یہ الزام قائم ہوتا کہ ان کو روحانی آنکھیں حاصل کرنے کا موقع مل سکتا تھا مگر یہ اندھے رہے اور اب اگر قرآن کریم پڑھ کر دوسروں کو نہ سکھاؤ گے تو یہ الزام ہوگا کہ اِن کو آنکھیں ملی تھیں پھر انہوں نے اندھوں کو کیوں راستہ نہ دکھلایا۔تو آپ کا صرف یہ کام نہیں کہ جب قرآن شریف پڑھ کر جائیں تو اسے اپنے تک ہی محدود رکھیں بلکہ آپ کا یہ بھی کام ہے کہ اپنے وطن واپس جا کر اپنی جماعتوں کو قرآن شریف پڑھائیں۔جب میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف پڑھا ئیں تو زیادہ منشاء میرا یہی ہوتا ہے کہ دوسروں کو قرآن شریف سنائیں کیونکہ ہمارے ملک کے اکثر لوگ پڑھے ہوئے نہیں۔دوسرا فرض آپ کا یہ ہے کہ چونکہ آپ سارا قرآن شریف ان دنوں میں نہیں پڑھ سکیں گے اور ساری صرف و نحو بھی نہیں پڑھ سکیں گے بلکہ اس کے موٹے موٹے مسائل بھی شاید اس دفعہ ختم نہ کر سکیں گے اس لئے آپ آج ہی سے دل میں پکا عہد کریں کہ اگلے سال آ کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔آدھی تعلیم حاصل کرنے سے آپ کی ذمہ داری ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے ایک شخص جو کسی کے گھر میں کرائے پر رہتا ہے اگر وہ اُس مکان کو خراب کرتا