انوارالعلوم (جلد 18) — Page 147
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۷ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید انہوں نے کچھ اس قسم کا فقرہ کہا رحمتہ اللہ امام علیہ۔اس پر میں نے کہا میاں عبدالوہاب ! آپ کے یہاں آنے کا کیا فائدہ تھا، آپ خواہ نخواہ اس بڑھاپے میں حج کے لئے چلے آئے آپ کو تو اسلام کا کچھ بھی پتہ نہیں۔وہ بڑے غصہ میں آ کر بولے۔میرے بیٹوں نے مجھے مجبور کیا کہ ابا ! جا کر حج کر آؤ تب ہم خوش ہونگے مجھے کیا پتہ حج کیا ہوتا ہے۔جب مسلمانوں کی یہ حالت ہو تو کیا اس پر یہ امید کی جاتی ہے کہ خدا اور اُس کے رسول کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی۔جس شخص کو یہ پتہ نہیں کہ خدا اور رسول کیا چیز ہے وہ خدا اور رسول کی کیا حکومت قائم کر سکتا ہے وہ تو جب بھی قائم کرے گا اپنے نفس کی حکومت قائم کرے گا تو قرآن شریف جانے بغیر اور اس کو سمجھے بغیر خدا کی حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔ہماری قربانیاں بے شک قابل قدر ہیں ، ہمارے چندے بھی بے شک قابل قدر ہیں اور ہماری تبلیغ بھی قابل قدر ہے مگر ہم کس چیز کو قائم کرنا چاہتے ہیں؟ خدا اور اُس کے رسول کی حکومت کو ؟ مگر خدا اور اس کے رسول کی حکومت بغیر قرآن شریف سمجھے قائم نہیں ہو سکتی۔ہمیں کیا پتہ ہے کہ جس وقت اسلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا اُس وقت کون زندہ ہوگا ، ہمیں کیا پتہ ہے کہ اگر ہم زندہ بھی ہوں گے تو اسلام کا جھنڈا گاڑنے کی توفیق ہمیں ملے گی یا کسی اور کو۔کیونکہ ہر انسان ہر جگہ موجود نہیں ہوتا۔پس کیا معلوم کہ جسے اسلام کا جھنڈا گاڑنے کی توفیق حاصل ہوگی وہ کون سا ہاتھ ہو گا۔اگر اُن انسانوں کو جو ہمارے قائمقام ہونگے اگر اُن کے زمانہ میں جھنڈا گڑا یا اس جگہ پر جہاں جھنڈا گاڑا گیا جو ہمارا قائم مقام ہوا اگر اُس کو قرآن شریف کا پتہ نہیں ہوگا تو اُس نے کیا کرنا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کہتے ہیں کہ ایک پٹھان تھا اُس کو خواہش پیدا ہو گئی کہ کسی کو کلمہ پڑھا کر مسلمان بناؤں۔اُسی گاؤں میں جس میں وہ رہتا تھا ایک بنیا تھا ایک دن اُسے اکیلا دیکھ کر اُسے جوش آ گیا اُس نے اُسے پکڑ لیا اور کہا کلمہ پڑھ نہیں تو مارتا ہوں۔اُس نے کہا میں کلمہ کس طرح پڑھوں؟ میں تو مسلمان نہیں ہوں۔کہنے لگا خومسلمان ہے یا نہیں آج تم کو کلمہ ضرور پڑھوانا ہے کیونکہ تم کو مسلمان کر کے میں نے جنت میں جانا ہے۔لالہ نے بڑی منتیں کیں اور ٹالتا رہا کہ شاید اس عرصہ میں کوئی دوسرا آدمی آ جائے اور میرا چھٹکارا ہومگر اتفاق کی بات کہ