انوارالعلوم (جلد 18) — Page 145
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۵ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید - ہے کیونکہ ٹرنک کو تالا لگا ہوا ہے۔ایسے شخص کی مثال اُس شخص کی مثال کی طرح کس طرح ہو سکتی ہے جس کے پاس اس ٹرنک کی چابی ہے وہ چابی سے تالا کھولتا ہے، کپڑے پہنتا ہے اور اس سے اپنے جسم کو ڈھانکتا ہے اور اسے خوشنما بنا کر دوستوں کو دکھاتا ہے اِن دونوں میں تو کوئی نسبت ہی نہیں۔تو جب تک قرآن شریف کو ہم کھول کر لوگوں کے سامنے نہیں لے آتے اور جب تک لوگوں کو اس سے اچھی طرح واقف نہیں کرا دیتے اُس وقت تک یہ سمجھ لینا کہ ہم کوئی تغیر پیدا کر لیں گے غلط ہے۔اور ہماری حالت اُس برہمن کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایک دن جبکہ بہت زیادہ سردی تھی نہانے کے لئے دریا پر گیا زیادہ سردی کی وجہ سے وہ راستہ میں ٹھٹھر رہا تھا اور ڈر رہا تھا کہ اگر دریا میں نہایا تو بیمار ہو جاؤں گا لیکن چونکہ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ برہمن کو ضرور روزانہ دریا پر ( دریا اگر پاس ہو ) تو نہانا چاہئے اس لئے با وجو د سخت سردی کے وہ دریا کی طرف چل دیا۔جب وہ دریا کی طرف جا رہا تھا تو راستہ میں اسے کوئی دوسرا برہمن آتا ہوا نظر آیا اُس کو دیکھ کر اُس نے کہا کیا کریں آج تو نہایا نہیں جاتا بڑی سردی ہے تم نے کیا کیا؟ دوسرے برہمن نے جواب دیا کہ میں نے تو یہ کیا کہ ایک کنکر اُٹھا کر دریا میں پھینکا اور کہا تو را شنان سومور اشنان یعنی تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا میں یہ کہہ کر واپس آ گیا۔اس پر وہ برہمن کہنے لگا ” تو را شنان سوموراشنان“ یہی بات ہے تو پھر تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا۔یعنی کنکر کا نہا نا اس برہمن کا نہانا ہو گیا اور اُس برہمن کا نہانا اِس دوسرے برہمن کا نہانا ہو گیا۔یہی اِس وقت کے لوگوں کی حالت ہے جب کسی سے کوئی اس کے مذہب کے متعلق سوال کرے تو کہہ دیتے ہیں ہمارے مولوی صاحب خوب جانتے ہیں۔گویا ان کے دماغوں کو زنگ لگ چکا ہے اور وہ بے کار ہو چکے ہیں۔قرآن شریف کا جانا تو الگ رہا ان کی حالت تو اُس شخص کی طرح ہے جو صرف ٹرنک پر ہاتھ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے سب کچھ دیکھ لیا اور پالیا۔میں جس وقت حج کے لئے گیا تو میاں عبدالوہاب صاحب ایک شخص سہارن پور کے رہنے والے تھے وہ بھی حج کے لئے گئے ہوئے تھے وہ چونکہ بہت ہی سیدھے سادھے آدمی تھے اس لئے لوگ اُن سے مذاق کرتے تھے۔اُن کے پاس تھوڑے سے روپے تھے جو اُن کے لڑکوں نے اُن کو دیئے تھے کچھ شرارتی لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ وہ روپیہ اُن سے لے لیں۔میں مصر کے