انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 144

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۴۴ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید بلکہ جو کچھ یاد ہے یا جو لفظ پڑھے ہوئے ہیں انہیں دُہراتے چلے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عرب والوں میں صرف سورہ فاتحہ جو تغیر پیدا کر سکتی تھی ہماری جماعت میں سارا قرآن وہ تغیر پیدا نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ اس جماعت کے اکثر افراد قرآن کریم کے معنی نہیں جانتے۔اب اس کا علاج دو ہی طرح ہو سکتا ہے کہ یا تو ہم ان کو قرآن تک لے جائیں یعنی اُن کو عربی پڑھا دیں تا وہ قرآن کو سمجھ سکیں اور اگر یہ نہیں تو قرآن کو اُن تک لے جائیں یعنی اس کا ترجمہ اُن کو سنائیں۔ان عربی دانوں کے بغیر ہم قومی تغیر پیدا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی روحانی عظیم الشان تغیر کر سکتے ہیں۔ہمارے اندر جو کوتاہیاں، ہستیاں اور غفلتیں پائی جاتی ہیں ان کی ایک ہی وجہ ہے کہ ابھی تک ہم پر قرآن شریف کے دروازے نہیں گھلے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب اسلام باہر کے ممالک میں پھیلا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے تو اُن کے لئے یہی مشکل پیش آئی کہ وہ نماز میں کس طرح پڑھیں، قرآن کس طرح پڑھیں جبکہ اُن کو عربی ہی نہیں آتی۔اس حالت کو دیکھ کر حضرت امام ابوحنیفہ نے فتویٰ دے دیا کہ گو نماز کو اصل صورت میں پڑھنا زیادہ ثواب کا موجب ہے لیکن جو قرآن شریف نہیں پڑھ سکتے اور نماز بھی عربی میں نہیں پڑھ سکتے وہ قرآن کا ترجمہ پڑھ لیا کریں اور یہ بھی جائز ہے کہ نماز کا بھی اپنی زبان میں ترجمہ کر لیں اور اسے یاد کر لیں اور نماز دل میں پڑھا کریں۔غرض ایک تو وہ لوگ تھے کہ وہ جب اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ پڑھتے تھے تو جانتے تھے کہ اس کے کیا معنی ہیں۔وہ جانتے تھے کہ الرّحمنِ الرَّحِیم کے کیا معنی ہیں لیکن ایک آجکل کے لوگ ہیں جو مسلمان تو ہیں لیکن قرآن شریف کو نہیں جانتے اسلام سے محض ناواقف ہیں۔ان دونوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص وہ ہے جوٹر تک کھولتا ہے اور اُس میں سے کپڑے نکال کر دیکھتا ہے کہ یہ پاجامہ ہے، یہ قمیض ہے، یہ کوٹ ہے، یہ پگڑی ہے اور ایک اور انسان ہے وہ ایک ٹرنک جس کو تالا لگا ہوا ہے اُس پر ہاتھ پھیر لیتا ہے کیا ان دونوں میں کوئی نسبت ہو سکتی ہے؟ جس شخص کو قرآن شریف کے معنی نہیں آتے اُس کی مثال تو ویسی ہے جیسے ٹرنک پر ہاتھ پھیرنے والا انسان۔اُس کو نہ کپڑے دیکھنے اور نہ استعمال کرنے کی توفیق ہوئی ، نہ اُس نے ہاتھوں سے اُن کپڑوں کو ٹولا ، نہ اُس کے جسم نے انہیں پہنا اور نہ ہی پہن سکتا