انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 131

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۳۱ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ( تقریر فرموده ۱۱ ستمبر ۱۹۴۵ء بمقام بیت اقصی قادیان) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے پہلے بھی کئی بار بلکہ کئی بار کا لفظ بھی شاید غلط ہوگا یوں کہنا چاہئے کہ اپنے پیشروؤں کے تسلسل میں متواتر اور بار بار جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ قرآن شریف کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے جیسے انسان کی پیدائش اور موت کا ایک وقت ہوتا ہے ، جیسے درختوں کے پھل لانے کا ایک وقت ہوتا ہے ، جیسے سبزیاں اور ترکاریاں بونے کا ایک وقت ہوتا ہے، جیسے اُن کے کاٹنے کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح بنی نوع انسان کے اعمال بھی خاص خاص ماحول میں پیدا ہوتے ، پنپتے ، بڑھتے اور مکمل ہوتے ہیں۔ہمارے ایک پرانے بزرگ اپنے واقعات میں سے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ کوئی مالدار شخص بہت ہی عیاش تھا اور رات دن اپنے اموال گانے بجانے اور شراب وغیرہ کے شغل میں خرچ کیا کرتا تھا۔کوئی بزرگ تھے اُنہوں نے اُسے کئی دفعہ سمجھایا لیکن بجائے اس کے کہ اُن کی نصیحت اس کے دل پر اثر کرتی اور بجائے اِس کے کہ وہ ان کے وعظ سے نصیحت حاصل کرتا وہ اپنی بدا عمالیوں میں اور زیادہ بڑھتا چلا گیا اور بجائے اِس کے کہ وہ اس بزرگ کی خیر خواہی اور اس کے اخلاص کی قدر کرتا اُس نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں ان کو دُکھ دینا شروع کر دیا اور طرح طرح کی تکالیف دینی شروع کر دیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ کی طرف تشریف لے گئے۔ایک دفعہ حج کے ایام میں جب کہ لوگ ذوق و شوق سے طواف کعبہ کر رہے تھے اور وہ بزرگ بھی طواف کعبہ میں مشغول تھے ( حج کرنے والوں نے تو وہاں کی حالت کو دیکھا ہے