انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 105

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۰۵ اسلام کا اقتصادی نظام کمپنیوں کا مقابلہ چھوٹے ملک اور غیر منظم بڑے ملک کر سکتے تھے مگر اجتماعی حکومتی کیپٹلزم کا مقابلہ چھوٹے ملک اور بڑے (لیکن کمزور ) ملک کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔اس سے پہلے بھی بڑے صناع مُلک چھوٹے ملکوں پر اقتدار پیدا کر لیتے تھے لیکن انفرادی کیپٹلزم کی موجودگی میں ضروری نہ تھا کہ جو ملک چھوٹا ہو اُس میں کیپٹلسٹ نہ ہوں۔چونکہ مقابلہ افراد میں تھا اس لئے باوجود ملک کے چھوٹا ہونے کے اس کے کچھ افراد بڑے اور منظم ملک کا مقابلہ کرتے رہتے تھے کیونکہ وہ بھی کیپٹلسٹ ہوتے تھے۔انگلستان نہایت منظم صنعتی ملک ہے مگر باوجود اس کے ہالینڈ، بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ جسے ملکوں کے بعض کیپٹلسٹ انگلستان کے کیپٹلسٹوں کا مقابلہ کر سکتے تھے کیونکہ مقابلہ انگلستان اور ہالینڈ یا انگلستان اور بیلیجئم اور انگلستان اور سوئٹزر لینڈ کا نہ تھا بلکہ مقابلہ انگلستان اور ہالینڈ کے اور انگلستان اور بیلجیئم اور انگلستان اور سوئٹزرلینڈ کے دو کیپٹلسٹوں کا تھا اور اُن کئے آگے نکلنے سے مُلک کا دوسرا طبقہ بھی فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔یہ فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ انگلستان اور بیلجیئم کی فوجیں سامنے آئیں تو بیلجیئم مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن انگلستان کا کوئی سپاہی بیلجیئم کے کسی سپاہی کے مقابلہ پر آ جائے تو بیلجیئم کا سپاہی انگلستان کے سپاہی پر غالب آ سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ فردی کیپٹلزم بھی ایک خطر ناک شے ہے مگر اس کے باوجود خود اس ملک کے لوگوں اور اس کے حریف ملکوں کے لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ راستہ بچاؤ کا کھلا رہتا ہے لیکن حکومتی کیپٹلزم کے سامنے چھوٹے اور غیر منظم ملک بالکل نہیں ٹھہر سکتے اور ان کے بچنے کی کوئی ممکن صورت ہی باقی نہیں رہتی۔اور یہ مقابلہ ایسا ہی عبث ہو جاتا ہے جیسا کہ ایک مشین گن رکھنے والی فوج کے مقابل پر سونٹے لے کر نکلنے والی فوج عبث اور بے کار ہوتی ہے۔کمیونزم نے ملکی اجتماعی کیپٹلزم کا طریق جاری کر کے جس میں سارے ملک کی دولت اور اس کی سیاسی برتری مجموعی طور پر دوسرے ملکوں کے منفر د صناعوں اور تاجروں کے مقابل پر کھڑی ہوتی ہے ایک ایسا طریق رائج کیا ہے جو دنیا کے اقتصادی نظام کو بالکل تہہ و بالا کر دے گا۔لوگ ٹرسٹوں اور کارٹلز کے خلاف شور مچارہے تھے اور ان کے ظلموں کے شا کی تھے مگر کمیونزم نظام