انوارالعلوم (جلد 18) — Page 104
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۰۴ اسلام کا اقتصادی نظام بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ انگریزوں نے بھی تو ایران کے تیل کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔میرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے بھی اچھا نہیں کیا مگر میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر انگریزوں نے اچھا نہیں کیا تو روس نے بھی اچھا نہیں کیا۔تم اُس کو بھی گالیاں دو اور اس کو بھی بُرا بھلا کہو مگر یہ کیا کہ انگریز ایک کام کریں تو انہیں بُرا بھلا کہا جائے اور ویسا ہی کام روسی کریں تو انہیں کچھ نہ کہا جائے بلکہ اُن کی تعریف کی جائے۔اگر انگریزوں نے ابادان کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے تو روس کا مطالبہ بھی تو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادیات میں کمیونزم پرانے امپیریلسٹک کی پالیسی والے ملکوں سے کوئی جُدا گانہ راہ نہیں رکھتا اور وہ بھی غیر ملکوں سے مساوات کا سلوک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اگر وہ مساوات کے لئے تیار ہے تو کیا اگر ایرانی یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں باکو کے چشموں سے فائدہ اُٹھانے دیا جائے تو روسی کہیں گے بہت اچھا آجاؤ اور باکو کے چشموں پر قبضہ کر لو؟ اگر مساوات کا سلوک کیا جاتا تو ایران سے کہا جاتا کہ تمہارا بھی حق ہے کہ مجھ سے مانگو اور میرا بھی حق ہے کہ میں تم سے مانگوں مگر روس اس طرف آتا ہی نہیں اور ابھی تو یہ ابتداء ہے جب کمیونزم کی صنعت وحرفت بڑھے گی دوسرے ملک اس طرح چلائیں گے کہ پہلے کبھی نہیں چلائے اور اس سے زیادہ ان کی صنعت کو کچلا جائے گا جس قدر کہ پہلے بھی کچلا گیا۔کیونکہ کمیونزم نے صرف فردی کیپٹلزم کو کچلا ہے اجتماعی کیپٹلزم کو نہیں بلکہ اجتماعی کیپٹلزم کو اس قدر طاقت دے دی ہے کہ اس سے پہلے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئی اور اجتماعی کیپٹلزم ہی سب سے زیادہ خطر ناک شے ہے۔امریکہ نے ٹرسٹ سسٹم اور کارٹل سسٹم کے خلاف قانون اسی لئے پاس کیا ہے۔ایک خطر ناک کیپٹلزم کا اجراء اقتصادی تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ انفرادی تاجر بھی اتنے کامیاب نہیں اور اُس کے انسداد کی دوصورتیں ہوئے جس قدر کہ کمپنیاں۔اور کمپنیاں کبھی اتنی کامیاب نہیں ہوئیں جس قدر کہ ٹرسٹ۔اور ٹرسٹ کبھی اتنے کا میاب نہیں ہوئے جس قدر کہ کارٹل۔اور کارٹل کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ وہ کمپنیاں کا میاب ہوں گی جن کے پیچھے سارے ملک کی دولت اور سیاست ہوگی جیسا کہ روس میں کیا جا رہا ہے۔افراد کی