انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 103

انوار العلوم جلد ۱۸ ١٠٣ اسلام کا اقتصادی نظام ایران کو نہ دیے گئے تا وہ مضبوط ہو جاتے۔ان کمزور ملکوں کو حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے یا طاقتو ر روس کو؟ پس حفاظت کے اصول کے لحاظ سے ان ملکوں کو اور علاقے ملنے چاہئیں تھے نہ کہ روس کو۔مگر بات یہ ہے کہ پہلے اگر روس خاموش تھا تو محض اس لئے کہ اُس کے پاس طاقت نہیں تھی۔جب اُس کے پاس طاقت آگئی تو یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں اُس کا شکار بن گئیں مگر دنیا کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لئے کہا گیا کہ ہم ان ممالک پر اس لئے قبضہ کرتے ہیں کہ روسی سرحدیں ان کے بغیر محفوظ نہیں ہیں۔اگر یہ طریق درست ہے تو کل امریکہ والے بھی کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے جاپانی جزیروں پر قبضہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے ملک کی حفاظت اس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔کہتے ہیں زبر دست کا ٹھینگا سر پر جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیا کرتا ہے۔جب روس کے پاس طاقت آئی تو اس نے بھی ڈیفنس آف سائبیریا ، ڈیفنس آف لینن گریڈ ، ڈیفنس آف وائٹ رشیا اور ڈیفنس آف یوکرین کے بہانہ سے کئی ممالک کی آزادی کو سلب کر لیا۔جب سیاسیات میں روس کی یہ حالت ہے تو اقتصادیات میں یہ کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ مساوات کا سلوک کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اگر کہو کہ نہیں ہم اقتصادیات کے متعلق نہیں سمجھ سکتے کہ روس ایسا کرے گا سیاسی صورت الگ ہے۔تو اِس کا جواب یہ ہے کہ دور کیوں جاتے مساوات پر زور دینے والی کمیونزم کی یہ حالت ہے کہ وہ آج ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔آخر سوال یہ ہے کہ کیا ایران کیلئے اپنے چشموں سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں کہ ایک دوسرا مُلک اُس سے مطالبہ کرتا ہے کہ تیل کے چشموں سے اُسے فائدہ اُٹھانے دیا جائے۔جب ایران کو خود اپنے تیل کے چشموں کی ضرورت ہے، جب اُس کے اپنے آدمی بھو کے مر رہے ہیں تو روس نے اُس سے یہ کیوں مطالبہ کیا؟ اگر مساوات اور بنی نوع انسان کی ہمدردی مقصود تھی تو کیوں ایران کو بغیر سُود کے روپیہ نہ دے دیا کہ اپنے تیل کے چشموں کو کھو دو اور اُن سے اپنے ملک کی حالت کو درست کرو۔کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ طاقت حاصل ہونے کے نتیجہ میں روس اب یہ چاہتا ہے کہ ایران سے اُس کے تیل کے چشمے بھی چھین لے اور خود اُن پر قابض ہو جائے۔ہو