انوارالعلوم (جلد 18) — Page 93
انوار العلوم جلد ۱۸ ۹۳ اسلام کا اقتصادی نظام ہوئی اور لوگوں کی آواز پر حکومت کی گرفت نہ رہی اُسی دن وہ لوگ جو آج مصلحت کے ماتحت خاموش بیٹھے ہیں روس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں گے اور اس تحریک کو مٹانے کی کوشش کریں گے۔(چنانچہ اس تقریر کے بعد جنگ جرمنی ختم ہوگئی اور مختلف ممالک میں روسی نظام کے خلاف آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیں خصوصاً یو نائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں ) کمیونزم کے ذریعہ (۸) آٹھواں نقص اس نظام میں یہ ہے کہ اس میں عائلی محبت کا سر کچل دیا گیا ہے جو آ خر مضر ہوگا۔کمیونزم میں ماں اور عائلی محبت کی موت باپ اور باپ اور بہنوں اور بھائیوں اور دوسرے تمام رشتہ داروں کی محبت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور بچوں کو کمیونزم کی تعلیم دینے اور مذہب سے بیگانہ کرنے کے لئے حکومت کے بچے قرار دے دیا گیا ہے۔ہر بچہ بجائے اِس کے کہ ماں کی گود میں رہے، بجائے اس کے کہ باپ کی آنکھوں کے سامنے پرورش پائے گلی طور پر گورنمنٹ کے اختیار میں چلا جاتا ہے یا کم سے کم قانونی طور پر ایسا ہے۔اس طرح ماں باپ کی محبت کا خانہ بالکل خالی کر دیا جاتا ہے۔یہ نظام بھی ایسا ہے جو دیر تک نہیں چل سکتا۔یا تو اس نظام کو بدلنا پڑے گا یا رشیا کا انسان انسان نہ رہے گا کچھ اور بن کر رہ جائے گا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ کمیونزم کامیاب ہو گیا حالانکہ اس وقت کمیونزم کی کامیابی محض زار کے مظالم کی وجہ سے ہے۔جب پچاس ساٹھ سال کا زمانہ گزر گیا، جب زار کے ظلموں کی یاد دلوں سے مٹ گئی ، جب اُس کے نقوش دھندلے پڑگئے اگر اُس وقت بھی یہ نظام کا میاب رہا تب ہم سمجھیں گے کہ کمیونزم واقعہ میں ماں کی محبت اور باپ کے پیار اور بہن کی ہمدردی کو کچلنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔لیکن دنیا یا در کھے یہ محبتیں کبھی کچلی نہیں جاسکتیں۔ایک دن آئے گا کہ پھر یہ محبتیں اپنا رنگ لائیں گی پھر دنیا میں ماں کو ماں ہونے کا حق دیا جائے گا ، پھر باپ کو باپ ہونے کا حق دیا جائے گا ، پھر بہن کو بہن ہونے کا حق دیا جائے گا اور پھر یہ گم گشتہ محبتیں واپس آئیں گی۔لیکن اس وقت یہ حالت ہے کہ کمیونزم انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک مشین سمجھتا ہے۔نہ وہ بچہ کے متعلق ماں کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے ، نہ وہ باپ کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے ، نہ وہ بہن کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، نہ وہ اور رشتہ داروں کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، وہ انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک مشینری کی حیثیت