انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 92

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۹۲ اسلام کا اقتصادی نظام دولت لوٹ لی جائے اور سوائے ابتدائی انسانی ضروریات کے خرچ کے انہیں اور کچھ نہ دیا جائے۔یہ نظریہ اپنی ذات میں اچھا ہو یا بُرا سوال یہ ہے کہ کمیونزم جبر کو جائز بجھتی ہے اور اس سے کام لیتی ہے اور بجائے اس کے کہ آہستہ آہستہ ترغیب اور تربیت سے لوگوں کی عادات درست کی جائیں اور اپنے سے کمزورں پر رحم کی عادت ڈالی جائے اور غرباء کی محبت اور اُن سے مساوات کا خیال اُن سے اونچے طبقہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالا جائے کمیونزم جبر کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس کی تعلیم دیتی ہے اور اُس نے برسراقتدار آتے ہی یکدم آسودہ حال لوگوں کی دولت کو چھین لیا اور اُن کی تمام جائدادوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔یہ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ جن کو شاہی محلات میں سے نکال کر چوہڑوں کے گھروں میں بٹھا دیا جائے اُن کے دلوں میں جتنا بھی اس تحریک کے متعلق بغض پیدا ہو کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہیں اس تحریک سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ اس سے انتہائی طور پر بغض رکھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں بے شک اسلام نے بھی اُمراء سے اُن کی دولت لی ہے مگر جبر سے نہیں بلکہ پہلے انہیں وعظ کیا ، پھر دولت کے محرکات کو مٹایا ، پھر اُن کی ضروریات کو محدود کیا ، پھر انہیں زکوۃ اور صدقہ وغیرہ احکام کا قائل کیا اور بالآخران تدابیر کے باوجود جو دولت اُن کے ہاتھوں میں رہ گئی اُسے اُن کی اولا دوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کرا دیا۔اِس طرح دولت اسلام نے بھی لے لی اور کمیونزم نے بھی مگر کمیونزم نے جبر سے کام لے کر امراء سے اُن کی دولت لی اور اسلام نے محبت سے اُن کی دولت لی۔اس جبر کا یہ نتیجہ ہے کہ غیر ممالک میں ایک بہت بڑا عصر اُن اُمراء کا موجود ہے جو روس کے خلاف ہیں کیونکہ کمیونزم نے اُن کی دولت کو چھین لیا اور انہیں تخت شاہی سے اُٹھا کر خاک مذلت پر گرا دیا۔کمیونسٹ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ آجکل اس تحریک کے خلاف کسی ملک میں جوش نہیں ہے اور وہ اس پر بہت خوش ہیں حالانکہ اس وقت کی خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ غیر ممالک اس وقت روس کی مدد کے محتاج ہیں۔اس وقت انگلستان کوئی بات روس کے خلاف سننے کے لئے تیار نہیں ، اس وقت امریکہ کوئی بات روس کے خلاف سننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ امریکہ اور انگلستان دونوں اِس وقت روس کی مدد کے محتاج ہیں اور لوگ اس وجہ سے خاموش بیٹھے ہیں۔جس دن لڑائی ختم