انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 83

انوار العلوم جلد ۱۸ ۸۳ اسلام کا اقتصادی نظام قیام عمل میں نہیں آیا۔گو بعد میں اسلام کی تعلیم پر پورا عمل نہیں ہوا پھر بھی اسلامی تعلیم کے اثر سے مسلمان بادشاہ پوری طرح آزاد نہیں ہوئے اور ہندوستان میں جب اسلامی حکومت آئی تو یہاں بھی یہی فیصلہ کیا گیا کہ مقبوضہ زمینیں پرانے باشندوں کے قبضہ میں رہنی چاہئیں اور اُفتادہ زمین حکومت کے قبضہ میں۔اور ہندوستان کی بڑی زمینداریاں سب کی سب انگریزی زمانہ کی پیداوار ہیں۔جب انگریز آئے تو انہوں نے اپنے انتظام کی سہولت کے لئے پُرانے تحصیلداروں یا ریونیو افسروں کو اُن کے علاقوں کا مالک قرار دے کر بنگال اور یو۔پی میں بڑے زمینداروں کی جماعت قائم کر دی حالانکہ یہ لوگ اصل میں صرف تحصیلدار تھے۔اس نئے انتظام کے ماتحت غریب زمینداروں کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا۔غرض اسلامی نظام زمیندارہ کے متعلق بھی ویسا ہی مکمل ہے جیسا کہ دوسرے اقتصادی امور میں۔اس میں بڑے زمینداروں کی جگہ نہیں یعنی حکومت ملکی زمینوں سے بڑے زمیندار نہیں بنا سکتی۔ہاں کوئی شخص زمین خرید کر اپنی زمین کچھ بڑھالے تو یہ اور بات ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ زمین خرید کر بڑھانا معمولی کام نہیں کیونکہ جس روپیہ سے زمین خریدی جائے گی وہ اگر تاجر کا ہے تو وہ تجارت کے زیادہ فائدہ کو زمین کی خاطر نہیں چھوڑے گا اور اگر روپیہ زمیندار کا ہے تو بہر حال محدود ہوگا۔زمیندار کی کمائی سے حاصل کردہ روپیہ سے خریدی ہوئی زمین کبھی بھی کسی زمیندار کو اتنا نہیں بڑھنے دے گی کہ وہ ملک کی اقتصادی حالت کو خراب کر سکے۔پھر تقسیم وراثت کے ذریعہ سے اُس کی زمین کو بھی ایک دو نسلوں میں کم کر دیا جائے گا۔سلام م کی کمیونزم کے مقابل پر بڑی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی قانون کے مطابق کسی شخص کو خواہ وہ بے اولاد زمینداریوں کو مٹانے کی بہترین سکیم ہی کیوں نہ ہو۳ را سے زائد کی وصیت کرنی جائز نہیں۔پس اگر کوئی شخص صاحب اولا دہوگا تو اُس کی زمین تقسیم ہو کر کم ہوتی جائے گی اور اگر وہ اپنے خاندان کی وجاہت کے قیام کے لئے ۱٫۳ اپنی اولاد میں سے کسی کو دینا چاہے گا تو اس کی اسلام اُسے اجازت نہ دے گا کیونکہ وصیت وارثوں کے حق میں اسلام جائز نہیں قرار دیتا غیر وارثوں کے حق میں جائز قرار دیتا ہے۔اور اس طرح زمین کی تقسیم سے روک کر