انوارالعلوم (جلد 18) — Page 77
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام اگر محمد رسول اللہ اللہ کے لئے بند ہے تو یقیناً ہر سچے مسلمان کے لئے بھی بند ہے۔وہ حقیقت پر پردہ ڈال کر مذاہب پر عقیدت رکھنے والوں کو اس نظام کی طرف لا سکتے ہیں مگر حقیقت کو واضح کر کے کبھی نہیں لا سکتے۔کمیونسٹ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں مگر جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے یہ بات درست نہیں وہ لفظاً خلاف نہیں لیکن عملاً خلاف ہیں اور جبکہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ وہ مذہب کی کوئی حیثیت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو یہ کہنا کہ ہم مذہب کے خلاف نہیں ہیں جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔مذہبی تعلیم میں روک ڈالنے کے اس سلسلہ میں ضمنا یہ بات بھی کہے جانے کے قابل ہے کہ روس میں مذہبی تعلیم میں روک لئے مختلف ذرائع کا استعمال ڈالی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کا یہ ہر گز حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو مذہبی باتیں سکھائیں اور پیدا ہوتے ہی اُس کے کانوں میں ایسی باتیں ڈالنی شروع کر دیں جن کے نتیجہ میں وہ مذہب کی طرف مائل ہو جائے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بچے پر کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی ایک مسلمان اسلام کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے، ایک ہندو ہندو مذہب کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایک عیسائی عیسائی مذہب کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے۔انصاف کا طریق یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو بلوغت تک اُسے مذہب کی کوئی بات سکھائی نہ جائے۔دوسری طرف ہم بھی اُسے کوئی بات نہیں بتائیں گے۔جب وہ بڑا ہوگا تو خود بخود فیصلہ کرلے گا کہ اُسے کونسا طریق اختیار کرنا چاہئے۔اب بظاہر یہ ایک منصفانہ طریق نظر آتا ہے مگر حقیقتاً یہ بڑا بھاری ظلم اور تشدد ہے اس لئے کہ اسلام یا عیسائیت یا ہندومت یہ سب مثبت مذاہب ہیں۔یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں چیز کا وجود ہے لیکن وہر یہ یہ کہتے ہیں کہ اس چیز کا وجود نہیں ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ سکھانے کی تو مثبت والے کو ضرورت ہوتی ہے منفی والے کو کیا ضرورت ہے۔پس یہ مساوات نہیں بلکہ دھو کے بازی اور فریب کاری ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ بچوں کو تم بھی کچھ نہ سکھاؤ اور ہم بھی کچھ نہیں سکھائیں گے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم تو سکھائیں گے مگر تمہاری کوئی بات بچے کو سیکھنے نہیں دیں گے۔اب بتاؤ کیا کوئی بھی معقول آدمی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ