انوارالعلوم (جلد 18) — Page 53
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۳ اسلام کا اقتصادی نظام اس لئے روک رکھنا کہ قیمت بڑھ جائے گی تو فروخت کریں اسلامی تعلیم کے رو سے ناجائز قرار دیا جائے گا۔) اسلام میں مال کی قیمت اس کے علاوہ اسلام نے قیمت کو نا جائز حد تک گرانے سے بھی منع کیا ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے گرانے کی ممانعت قیمت کا گرانا بھی ناجائز مال کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تا جر اس ذریعہ سے کمزور تاجروں کو تھوڑی قیمت پر مال فرخت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا دیوالہ نکلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ ایک باہر سے آئے ہوئے شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا جس قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے اُسے حکم دیا کہ یا تو اپنا مال منڈی سے اُٹھا کر لے جائے یا پھر اُسی قیمت پر فروخت کرے جس مناسب قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت کر رہے تھے۔جب آپ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح فروخت کرنے کی اسے اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کے اس فعل کے خلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیش کیا کہ منڈی کے بھاؤ میں دخل نہیں دینا چاہئے ۲۵ مگر اُن کا یہ اعتراض درست نہ تھا کیونکہ منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے کے یہ معنی ہیں کہ پیداوار اور مانگ SUPPLY AND DEMAND) کے اصول میں دخل دیا جائے اور ایسا کرنا بے شک نقصان دہ ہے اور اس سے حکومت کو بچنا چاہئے۔ورنہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور تا جر تباہ ہو جائیں گے۔ہم نے قریب زمانہ میں ہی اس کا تجربہ کیا ہے۔جب حکومت نے جنگ کی وجہ سے گندم کی فروخت کی ایک ہی قیمت مقرر کر دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصلی تجارت بالکل رُک گئی کیونکہ کوئی عقلمند یہ امید نہیں کر سکتا کہ تاجر اسی قیمت پر خرید کر اُسی قیمت پر فروخت کر سکے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ گندم کی باقاعدہ تجارت بالکل بند ہوگئی اور مقررہ قیمت چھ روپے کی جگہ سوله رو پیه فی من تک گندم کی قیمت پہنچ گئی۔لوگ گورنمنٹ کو خوش کرنے کیلئے اپنے بیوی بچوں کو