انوارالعلوم (جلد 18) — Page 611
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۱ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر حل کر دیں کہ وہ باغ میں کس طرح پہنچا اور ان کے خوشے کس طرح ٹوٹے مگر وہ اگلا اور اصل سوال حل نہ کر سکا کہ ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر وہ گھر کی طرف کیوں جا رہا تھا۔اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیات ایسی ہیں جن کو مفسرین نے حل کرنے کی کوشش تو کی ہے مگر اصل مشکل کو اور اصل سوال کو حل کئے بغیر اس پر سے گزر جاتے رہے اور آیت کے جس ٹکڑے کو وہ حل کر لیتے رہے اسی پر خوش ہو جاتے رہے کہ ہم نے اس حصے کو حل کر لیا ہے حالانکہ اصل سوال جواب کے بغیر رہ جاتا رہا اور پڑھنے والے بھی اسی ایک ٹکڑے کے معنوں سے ہی خوش ہو جاتے اور واہ واہ کہتے رہے۔اس آیت کے متعلق بھی جس کو میں ابھی بیان کرنے لگا ہوں مفسرین کو اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوا اور ان کے دل میں اس کے متعلق شبہات پیدا ہوئے لیکن انہوں نے اس کے کچھ حصہ کو حل کرنے کی کوشش کی اور باقی سے یونہی گزر گئے اور انہوں نے اس امر کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس آیت کے سارے پہلوؤں پر جتنے شبہات پیدا ہو سکتے تھے یا جتنے اعتراضات اس پر وارد ہو سکتے تھے ان سب کا کوئی حل سوچا جائے۔یہ آیتیں سورۃ انفال کی ہیں اور جنگ بدر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كما اخرجك ربكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَاتٌ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ تكْرِهُونَ - يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُوْنَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُون کے فرماتا ہے کہ چونکہ تیرے رب نے تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکالا تھا اور مؤمنوں میں سے ایک فریق اسے نا پسند کرتا تھا وہ تجھ سے حق کے معاملہ میں بحث کرتے ہیں بعد اس کے کہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے اور اس بحث میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آ رہی ہے۔ان آیات کے متعلق جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ حق کے کھل جانے کے بعد کس طرح بحث کر سکتے تھے اور ان کو حق کی طرف جانا موت کیوں معلوم ہوتا تھا اور کیوں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو اپنے سامنے موت نظر آ رہی تھی۔یہ معنے تو صحابہ کی شان کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ صحابہ نے دین کے لئے جو قربانیاں کیں اور اپنی جان، مال اور عزت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کیں ان کو دیکھتے ہوئے کوئی