انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 509

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۰۹ خدا تعالی دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے فرماتا ہے اور اس کی یہ سنت ہمیشہ سے چلی آئی ہے۔پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے اس زمانہ میں وہ کوئی ما مور نہ بھیجتا۔یہ تو صرف لوگوں کا اپنا وہم ہے کہ وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب کوئی مامور نہیں آئے گا جس شخص کا خزانہ محدود ہو وہ تو اس قسم کا خیال کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خزانہ محدود نہیں اس لئے وہ دنیا کی ضرورت کے وقت ضرور اپنے انعام نازل فرماتا ہے مثلاً یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی کو ہزار روپیہ عطاء فرمائے تو اس کے پاس باقی کچھ نہ بچے وہ اگر ایک ہزار روپیہ دیتا ہے تو اس کی جگہ ہزاروں اور لاکھوں روپے نئے پیدا کر سکتا ہے۔پس ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں پیدا کیا کیونکہ جس قدرلڑائی جھگڑا ، فساد اور گندلوگوں میں اس زمانہ میں رونما ہوا ہے اس کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں مل سکتی۔پہلے زمانہ میں جب کو روکشیتر وغیرہ کی جنگیں ہوئیں تو ساری جنگ میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار آدمی مارے گئے ہوں گے مگر اس زمانہ کی جنگوں کو دیکھ لولاکھوں اور کروڑوں انسان مارے گئے اور لوگ ظلم ، چوری، ڈاکہ اور فریب وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔پہلے زمانے میں تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ کوئی دُکاندار فریب دے کر ایک کیلا یا کوئی معمولی سی چیز فروخت کر دیا کرتا تھا مگر آجکل تجارت میں لاکھوں کروڑوں روپیہ کا فریب چلتا ہے۔اس قسم کے زمانہ میں تو خدا کے مامور کا آنا بہت ہی ضروری تھا اور ہمارے عقیدہ کے مطابق وہ آ گیا گو یہ فرق ضرور ہے کہ پہلے جو مامور آتے تھے وہ براہِ راست آتے تھے اور اپنے سے پہلے کی تعلیمات کو منسوخ قرار دیتے تھے لیکن اب چونکہ اسلام کامل مذہب ہے اور اب قیامت تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دور جاری رہنا ہے اس لئے اس زمانہ میں جو ما مور آیا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آیا اور اسلام ہی کے ذریعے دنیا کی اصلاح کرنے کے لئے آیا۔پس جس شخص کو خدا سے محبت ہوا سے چاہئے کہ ان باتوں کے متعلق غور کرے کیونکہ اس شخص سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو سکتا ہے جو دریا کے کنارے بیٹھا رہے اور اپنے ہاتھ نہ دھوئے۔میں ابھی بچہ ہی تھا کہ ایک دفعہ لاہور سے امرتسر کی طرف ریل میں آرہا تھا اُس ڈبے میں صرف ایک بڑھا بیٹھا تھا اور باقی سب نوجوان تھے۔ایک نوجوان نے اس بڑھے سے کہا آپ