انوارالعلوم (جلد 18) — Page 448
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے حاصل ہیں وہ مسلمانوں کو کیوں میسر نہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مسلمانوں میں تنظیم نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا گیا حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کوفہ میں بعض لوگ شرارتیں کیا کرتے تھے اور جب کوئی افسر وہاں پہنچتا تو ان لوگوں کی رپورٹیں حضرت عمر کے پاس آنی شروع ہو جاتی تھیں کہ یہ ظالم افسر ہے انتظام کو بدل دیا جائے۔حضرت عمر اس افسر کو بدل کر اور بھیج دیتے تھے مگر جب کوئی دوسرا افسر پہنچتا اُس کے خلاف جھٹ رپورٹیں آنی شروع ہو جاتی تھیں پھر حضرت عمرؓ اُس کو بدل ڈالتے تھے۔جب یکے بعد دیگرے پانچ سات افسر بدلے گئے تو حضرت عمر نے کہا کہ اب ایسا افسر بھیجا جانا چاہئے جو کوفہ کے لوگوں کو سیدھا کر دے۔آپ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیج دیا ، اُس وقت حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی کی عمر انیس سال کی تھی ، جب اس کے متعلق کوفہ والوں نے سنا کہ ایک ایسا شخص جس کی عمر 19 سال کی ہے گورنر بنا کر ہم پر حکومت کرنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے جنسی اُڑائی اور بغلیں بجائیں کہ جب بڑے بڑے معمر ہماری چالوں کے سامنے نہ ٹھہر سکے تو یہ بچہ بھلا کہاں ٹھہر سکے گا۔ان لوگوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ گورنر کوفہ کے نزدیک پہنچ جائے تو شہر کے بڑے بڑے رؤساء اور امراء اُس کے استقبال کے لئے باہر نکلیں۔تجویز یہ ہوئی کہ سب سے پہلے ان رؤساء میں سے جو سب سے بوڑھا رئیس ہے وہ آگے بڑھے اور اس کو تعظیم دے اور پوچھے کہ حضور کی عمر کیا ہے؟ اور جب وہ کہے گا اُنیس سال ہے تو سب ہنس دیں گے اور تمسخر اڑائیں گے۔غرض وہ ایک بہت بڑا جلوس بنا کر شہر سے باہر پہنچے۔جب اُنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کو آتے دیکھا تو وہ اس طرف چل پڑے۔اس بوڑھے نے جس کو عمر پوچھنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا آگے بڑھ کر پوچھا حضور کی عمر کیا ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی نے جواب دیا میری عمر ؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو دس ہزار صحابہ کے لشکر پر جن میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے جرنیل بنا کر روم والوں کے ساتھ لڑائی کرنے کے لئے بھیجا تھا تو اُس وقت جو عمر اُن کی تھی اُس سے میری ایک سال بڑی ہے۔یہ جواب سن کر کوفہ کے رؤساء ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور کسی کو جرات نہ ہوئی کہ ہنسی یا تمسخر کا کوئی لفظ منہ سے نکال سکے اور وہ اتنی سی بات سے ہی اس قدر مرعوب ہوئے