انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 399

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۹ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا باندھا تھا۔پس یہ طعنہ نہیں یہ اس کی ماں کی فضیلت کی دلیل ہے کل جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو جیسی مردوں کو خوشی تھی ویسی ہی عورتوں کو خوشی تھی مدینہ کی عورتیں دیوانہ وار گیت گاتی ہوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کو نکلیں وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی تھیں کہ اس نے ان کے لئے نَبِيَّةِ الْوِدَاع سے چاند چڑھا دیا ہے وہ والہانہ طور یہ شعر گاتی تھیں۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الوِدَاع ها اے لوگو! دیکھو تو لوگوں کا چاند مشرق سے نکلتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارا چاند شنیہ الوادع سے چڑھا دیا ہے۔اس کے بعد مدینہ کی مسلمان عورتوں نے اپنی متواتر قربانیوں سے شاندار مثالیں قائم کیں۔قربانی کی وہ مثالیں جو صحابیات نے قائم کیں ان کی نظیر آج تک کسی قوم کی عورت میں نہیں ملتی۔اُحد کی جنگ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہید ہونے کی خبر پھیل گئی اور جب کمزور اور بُزدل لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ کر مدینہ کی طرف آ رہے تھے مدینہ کی عورتیں اُحد کے میدان کی طرف دیوانہ وار دوڑی جاتی تھیں اور بعض عورتیں تو میدانِ جنگ تک جا پہنچیں۔ایک عورت کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ میدانِ جنگ میں پہنچیں تو انہوں نے ایک مسلمان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیریت کے متعلق پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ بی بی ! تمہارا باپ مارا گیا ہے۔اُس نے کہا میں تم سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھ رہی میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پوچھتی ہوں۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس شخص نے اس کے باپ، بھائی، بیٹا اور خاوند چاروں کے مرنے کی اطلاع اُسے دی اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اس نے اسکے تین رشتہ داروں یعنی باپ ، بھائی ، اور خاوند کے مرنے کی اطلاع دی لیکن ہر دفعہ اس عورت نے یہی کہا کہ میں تم سے رشتہ داروں کے متعلق نہیں پوچھتی میں تو یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیریت سے ہیں۔اس کے بعد پھر وہ میدانِ جنگ کی طرف بھاگ پڑی اور وہ فقرہ جو وہ کہتی تھی اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کتنی محبت تھی وہ اُحد کے میدان کی طرف دوڑی جاتی تھی اسے جو سپاہی ملتا اُسے