انوارالعلوم (جلد 18) — Page 386
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸۶ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے کے اس کے لئے کوئی مددگار باقی نہیں رہتا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پورے طور پر جھک جاتا ہے اور اس سے مدد طلب کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے تو اس کا یقین اور ایمان ترقی کرتا ہے۔بے شک کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دنیا دھکے دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کی مخالفتیں ہوتی ہیں اور ان کو سخت سے سخت مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہی سنت ہمارے لئے جاری ہے۔حضرت آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جو سلوک باقی انبیاء کی جماعتوں سے ہوا وہی ہم سے ہوگا۔اللہ تعالیٰ حضرت آدم کا دشمن نہ تھا، اللہ تعالیٰ نوح کا دشمن نہ تھا، اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کا دشمن نہ تھا، اللہ تعالی موسیٰ اور عیسی کا دشمن نہ تھا، اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن نہ تھا، ہمارا رشتہ دار نہیں کہ ہم ان تکلیفوں سے بچ جائیں ، جب تک تم آگ کی بھٹی میں ڈالے نہیں جاتے اور آروں سے چیرے نہیں جاتے اُس وقت تک تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس تیاری کرو تا آنے والے امتحان میں فیل نہ ہو جاؤ بغیر تیاری کے تم ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔اگر تم دین کے لئے قربانیاں کرنے سے گھبراتے ہو تو تم ایسی چیز نہیں جس کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک حفاظت کی ضرورت ہو تم اپنے لئے موت اور صرف موت میں ہی زندگی تلاش کرو، جب موت تمہاری نظروں میں معمولی اور حقیر چیز بن جائے گی تو تم تمام دنیا پر بھاری ہو جاؤ گے اور دنیا تمہارے مقابلہ سے عاجز آ جائے گی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور انہیں ہمت کے ساتھ ادا کرتے جاؤ اور یہ بات ہمیشہ یا درکھو کہ جب تک صحیح طور پر کوشش نہیں کی جائے گی اُس وقت تک صحیح نتائج نہیں نکلیں گے۔الفضل ۱۹ اکتوبر ۱۹۶۰ ء ) الحديد: ۱۷ تذکرہ صفحہ ۱۸۔ایڈیشن چہارم تذکرہ صفحه ۹ ۲۷ ،۲۸۰ ایڈیشن چهارم بخاری کتاب المغازى باب غزوة ذات الرقاع، شرح مواہب اللدنيه جلد ۲ صفحه ۵۳۰ ، دار الکتب العلمية بيروت ١٩٩٦ء