انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page iv

انوار العلوم جلد ۱۸ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب تعارف کتب یہ انوار اعلوم کی اٹھارہ میں جلد ہے جو سیدنا حضرت فضل عمر طلیقہ سمیع الثانی کی المسیح ۲۶ فروری ۱۹۴۵ء تا ۲۰ رمئی ۱۹۴۷ء کی بتیس مختلف تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔(۱) اسلام کا اقتصادی نظام حضرت خلیت اصسیح الثانی نے یہ معرکتہ الآرا ء اور انقلاب انگیز تقریر ما رعد ۲۶ فروری ۱۹۴۵ ء کو احمد یہ ہوٹل واقع ۲۳ ڈیوس روڈ لاہور میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مختلف مذاہب کے لوگوں کے اجتماع میں ارشاد فرمائی۔یہ تقریر تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔اس تقریر میں احمدی احباب کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مسلم اور غیر مسلم معززین بھی شامل تھے جن کی اکثریت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ طبقہ اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلباء سے تعلق رکھتی تھی۔تقریر کے دوران پروفیسرز ، وکلاء اور دیگر اہلِ علم دوست کثرت سے نوٹ لیتے رہے۔اس تقریر کی صدارت مسٹر رامچندر مچنده صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور نے کی۔تقریر کے خاتمہ پر صاحب صدر نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا:۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سننے کا موقع ملا اور مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اُس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضرت امام جماعت احمدیہ نے بیان فرمائی ہیں مجھے اس تقریر سے