انوارالعلوم (جلد 18) — Page 361
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۶۱ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ پر ہیز گار مسلمانوں کی اولادیں ہیں۔ان کے آباء واجداد اسلام کے فدائی اور بہت متقی لوگ تھے لیکن یہ لوگ اسلام سے بالکل غافل ہیں اور عیسائیت کو ہی اپنا اصلی مذہب سمجھتے ہیں۔میں نے اٹلی کے مبلغین کو لکھا کہ آپ اس علاقہ میں تبلیغ پر زور دیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے آباء واجداد کی ارواح کی تڑپ اور ان کی نیکی ان کی اولادوں کو اسلام کی طرف لے آئے۔پہلا خط ان کا جو مجھے پہنچا اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم اب روم سے آگئے ہیں اور صقلیہ کی طرف جا رہے ہیں۔پھر ان کا دوسرا خط مجھے پہنچا کہ ہم مسینا میں پہنچ گئے ہیں۔لوگ ہمارے لباس کو دیکھ کر جوق در جوق ہمارے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں ہم ان کو یہ وعظ کرتے ہیں کہ تمہارے باپ دادے تو مسلمان تھے تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اسلام سے دور چلے گئے ہواب دوسرا صبح آ گیا ہے آؤ اور اس کے ذریعہ حقیقی اسلام میں داخل ہو جاؤ۔تیسر ا خط ان کا مجھے آج ملا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے دو نو جوان احمدی ہو گئے ہیں دونوں بہت جو شیلے احمدی ہیں، احمدیت کی تبلیغ کا بہت جوش رکھتے ہیں۔ایک کا نام ہم نے محمود رکھا ہے اور دوسرے کا نام بشیر رکھا ہے۔ان کا خط بھی مجھے آیا ہے جس میں انہوں نے بیعت کا لکھا ہے۔ہمارے لئے یہ حالات خوش کن ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ یہ دونوں ملک ہمارے ذریعہ پھر اسلام کا گہوارہ بن جائیں لیکن جہاں ہمارے مبلغین بیرونی ممالک میں تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں اور وہ ہماری طرف سے فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں وہاں ہم پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان کی امداد صحیح طور پر کریں اور ان کے اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مبلغین کا تو بیرونی ممالک میں یہ حال ہے کہ ان میں سے ایک یعنی ماسٹر محمد ابراہیم صاحب نے جنگل میں جا کر درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھرا اور دوسرے بھی نہایت تنگی کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں لیکن ہمارے لوگ یہاں تحریک جدید کے چندوں سے بھی گریز کرتے ہیں اور جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہے جس نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔پہلے دور میں پانچ ہزار آدمیوں نے حصہ لیا تھا لیکن تحریک جدید کے دفتر دوم میں ابھی تک ان سے چوتھائی آدمیوں نے بھی حصہ نہیں لیا حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جس طرح پرانے لوگ اپنے گھروں سے بے سروسامانی کی حالت میں تبلیغ کے لئے نکل پڑتے تھے اسی طرح میری