انوارالعلوم (جلد 18) — Page 325
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۵ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تقریب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تقریب (فرموده ۱۹ را پریل ۱۹۴۶ء بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جہاں تک افتتاح کا سوال ہے وہ تو ہو چکا ہماری فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر صاحب نے بھی اپنا ایڈریس پڑھ دیا اور ڈاکٹر بھٹناگر صاحب نے بھی اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کر دیا۔اس وقت میں صرف ان نمائندگان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جو مختلف جماعتوں کی طرف سے مجلس شوری میں شامل ہونے کے لئے قادیان تشریف لائے ہیں اور اس وقت یہاں موجود ہیں۔ابھی ڈاکٹر بھٹناگر صاحب نے اپنے جواب میں بیان کیا ہے کہ اس قسم کی انسٹی ٹیوٹ کو جاری کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہمارے کارکنوں نے کسی قسم کی تحقیق شروع کی اور نئے نئے مسائل اور علوم نکلنے شروع ہوئے تو پھر ان کو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اسی جگہ چھوڑ دینا اور نتائج کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہ کرنا علمی ترقی کا موجب نہیں بلکہ تالاب کے پانی میں سڑاند پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔یہ بات بالکل درست ہے اور میں نے شروع سے ہی اس امر کو اپنے مدنظر رکھا ہے۔میں نے اس سے پہلے اس انسٹی ٹیوٹ کی مالی ضرورتوں کو جماعت کے سامنے نہیں رکھا صرف ایک خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ گوا بھی جماعت کو میں اس کی مالی ضرورتوں کے لئے نہیں بلا تا لیکن ایک وقت آئے گا کہ جب جماعت کو اس کے لئے مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اب اس موقع پر میں جماعت کو ایک بار پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔ابھی ہمیں اس بات