انوارالعلوم (جلد 18) — Page 306
انوار العلوم جلد ۱۸ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض ہمیں راستہ تو کھلا رکھنا چاہئے۔ہمیں ہرگز وہ باتیں قبول نہیں کرنی چاہئیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کی موت ہو مگر ہمیں وہ طریق بھی اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے ہندوستان میں اسلام کی حیات کا دروازہ بند ہو جائے۔میرا یقین ہے کہ ہم ایک ایسا منصفانہ طریق اختیار کر سکتے ہیں صرف ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے۔اسلام نے انصاف اور اخلاق پر سیاسیات کی بنیا درکھ کر سیاست کی سطح کو بہت اونچا کر دیا ہے کیا ہم اس سطح پر کھڑے ہو کر صلح اور محبت کی ایک دائی بنیاد نہیں قائم کر سکتے ؟ کیا ہم کچھ دیر کیلئے جذباتی نعروں کی دنیا سے الگ ہوکر حقیقت کی دنیا میں قدم نہیں رکھ سکتے تا ہماری دنیا بھی درست ہو جائے اور دوسروں کی دنیا بھی درست ہو جائے۔میں مسلمانوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہ وقت اتحاد کا ہے جس طرح بھی ہو اپنے اختلافات کو مٹا کر مسلمانوں کی اکثریت کی تائید کریں اور اکثریت اپنے لیڈر کا ساتھ دے اُس وقت تک کہ یہ معلوم ہو کہ اب کوئی صورت سمجھوتہ کی باقی نہیں رہی اور اب آزادانہ رائے دینے کا وقت آ گیا ہے۔مگر اس معاملہ میں جلدی نہ کی جائے تا کامیابی کے قریب پہنچ کر نا کامی کی صورت نہ پیدا ہو جائے۔میں ہندو بھائیوں سے اور خصوصاً کانگرس والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کانگرس کے لئے مسٹر گاندھی نے اور کچھ بھی نہ کیا ہو تو بھی انہوں نے اس پر یہ احسان ضرور کیا ہے کہ اسے اس اصل کی طرف ضرور توجہ دلائی ہے کہ ہمارے فیصلوں کی بنیا دا خلاق پر ہونی چاہئے تفصیل میں مجھے خواہ ان سے اختلاف ہو مگر اصول میں مجھے ان سے اختلاف نہیں کیونکہ میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصل کو جاری کیا ہے۔آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ ایک طرف تو آپ لوگ عدم تشدد کے قائل ہیں دوسری طرف مسلمانوں کے مقابل پر اپنے مطالبات نہ پورا ہونے کی صورت میں بعض لیڈر دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔میں نے آج ہی ایک کانگریسی لیڈر کا اعلان پڑھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں۔کہ کوئی اسے اچھا سمجھے یا بُرا اس کے نتیجہ میں ملک میں شدید فساد پیدا ہو گا پھر لکھتے ہیں۔