انوارالعلوم (جلد 18) — Page 228
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۸ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔ان میں یہ خوبی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قدر پہنچانتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن کی قدر پہچانتے تھے۔باوجود غیر احمدی ہونے کے جب بھی حضرت صاحب کو کتابت کی ضرورت ہوتی انہوں نے قادیان آ جانا۔اس زمانے میں تنخواہیں کم ہوتی تھیں پچیس روپے ماہوار اور روٹی کے لئے الاؤنس ملتا تھا۔ان کی یہ عادت تھی کہ جب کام ختم ہونے کے قریب پہنچتا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آنا اور کہنا حضور ! سلام عرض کرنے آیا ہوں مجھے اب گھر جانے کی اجازت دیں۔آپ نے فرمانا کیوں اتنی جلدی کیا پڑی ہے۔انہوں نے کہنا حضور ! ضرور جانا ہے۔آپ نے فرما نا ابھی تو کچھ کتابت باقی ہے کہنا حضور ! روٹی پکانی پڑتی ہے۔اس پر سارا دن صرف ہو جاتا ہے، روٹی پکا یا کروں یا کتابت کیا کروں، سارا دن روٹی پکانے میں لگ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمانا آپ کی روٹی کا میں لنگر خانہ سے انتظام کروا دیتا ہوں۔اس طرح اُن کو ۳۵ روپے تنخواہ مل جاتی اور روٹی مفت۔کچھ دن کے بعد انہوں نے پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنا حضور ! سلام عرض کرنے آیا ہوں جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔حضرت صاحب نے پوچھنا کیوں کیا بات ہے؟ کہنا حضور ! لنگر کی روٹی بھی کوئی روٹی ہے دال الگ پانی الگ اور نمک ہے ہی نہیں اور کسی وقت اتنی مرچیں ڈال دینی کہ آدمی کو سوکھی روٹی کھانی پڑے یہ روٹی کھا کر کوئی انسان کام نہیں کر سکتا۔آپ نے فرمانا اچھا بتاؤ کیا کروں؟ اُنہوں نے کہنا اس کے لئے کچھ رقم الگ دے دیا کریں اس مصیبت سے تو خود روٹی پکانے کی مصیبت اُٹھانا بہتر ہے میں خود روٹی پکا لیا کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دس روپے اور بڑھا دینے اور کہنا لو اب آپ کو ۴۵ روپے ملا کریں گے۔پھر اُنہوں نے دس دن کے بعد آ جانا اور کہنا حضور ! سلام عرض کرنے آیا ہوں مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔یہاں سارا دن روٹی پکاتا رہتا ہوں کام کیا کروں۔آپ نے فرما نا پھر کیا کریں؟ کہنا حضور ! لنگر خانے میں انتظام کروا دیں۔آپ نے فرمانا اچھا تمہیں ۴۵ رو پے ملتے رہیں گے اور کھانا بھی لنگر خانے میں لگوا دیتا ہوں۔انہوں نے واپس آ کر پھر کام شروع کر دینا۔کچھ دنوں کے بعد پھر آ جانا اور کہنا حضور ! سلام عرض کرنے آیا ہوں جانے کی اجازت چاہتا ہوں۔حضور نے۔