انوارالعلوم (جلد 18) — Page 226
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۶ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا دودھ دیتی ہے زیادہ نہیں دیتی اس لئے میں کہاں سے دس سیر لاؤں لیکن یہ کہتے تھے کہ ہم نے ضرور دس سیر دودھ لینا ہے۔آخر میں کیا کر سکتا تھا میں نے پانی ڈالنا شروع کر دیا تا کہ دس سیر پورا کیا جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ سادہ آدمی تھا اُس نے یہ کام دھوکا دینے کیلئے نہیں کیا بلکہ اُس نے سمجھا کہ جب وہ خود دس سیر کہتے ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ پانی ڈال کر دس سیر دودھ پورا کر لو اس لئے میں پانی ڈال کر دیتا ہوں۔یہ بات تو الگ رہی ڈلہوزی میں تو یہ ہوتا ہے کہ دھ بیچنے والے کہتے ہیں کہ روپے کا تین سیر والا لینا ہے یا روپے کا پانچ سیر والا یا روپے کا سات سیر والا۔اگر کوئی لالچ میں آجائے اور سات سیر والا دودھ مانگے تو اس کے سامنے نلکے میں سے ڈیڑھ پاؤ دودھ میں قریباً اڑھائی پاؤ پانی ملا کر اُسے دے دیتے ہیں۔غرض تجارتی معاملات میں ہندوستانیوں میں عام طور پر دیانت داری نہیں پائی جاتی لیکن یورپین قو میں ان باتوں میں نہایت دیانت دار ہوتی ہیں۔ان کی چیز اگر خراب ہو جائے تو وہ اسے فوراً پھینک دیں گے لیکن ہمارے ملک کے تاجر اُن کو پھینکتے نہیں بلکہ سستے داموں بیچنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہر چیز کا ایک سٹینڈرڈ(STANDERD) ہونا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ اس معیار سے چیز نہ گرے اور اگر گرے تو اس کو بیچا نہ جائے۔اگر اس کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو کوئی کارخانہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ہمارے قادیان میں ہی کئی کارخانے ہیں اور اچھے چل رہے ہیں۔پچھلی دفعہ جب میں لا ہور گیا تو بعض بڑے بڑے ماہروں نے تسلیم کیا کہ قادیان اتنی ترقی کر گیا ہے کہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں اتنی ترقی نہیں ہوئی لیکن وہ اور دوسرے مال لینے والے سب یہی شکوہ کرتے تھے کہ کارخانوں کا ایک سٹینڈرڈ نہیں بلکہ کبھی اعلی چیز تیار ہو جاتی ہے اور کبھی ادنی۔اس کے مقابلہ میں انگلستان کی لاکھوں فر میں ہیں مگر ان کا سٹینڈرڈ قائم ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے چیکر ز رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔جب کارخانے سے باہر مال جانے لگتا ہے تو وہ پہلے مال کو چیک کرتے ہیں اور جو چیز سٹینڈرڈ سے کم ہو اُ سے رڈی قرار دے کر باہر نہیں جانے دیتے بلکہ ضائع کر دیتے ہیں۔ہمارے ہاں چیزوں کا سٹینڈرڈ نہ ہونے کی دو وجہیں ہیں۔ایک یہ کہ یہاں چیکر نہیں۔دوسرے کارخانہ والے اپنے مال کو جان بوجھ کر چاہے وہ کتنا ہی رڈی ہو باہر