انوارالعلوم (جلد 18) — Page 215
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۱۵ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا وہاں کے اصلی باشندے جو کہ ریڈ انڈینز (RED INDIANS) کہلاتے ہیں چند ہزار سے زیادہ نہیں مل سکتے۔نہ ان کے پاس جائدادیں ہیں نہ زمینیں وہ مزدوری کرتے ہیں اور اس طرح غریبانہ طور پر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔اسی طرح کینیڈا ہے کینیڈا کے اصلی باشندے کہاں گئے ؟ جن جن جزائر میں یورپین گئے وہاں کے باشندے تباہ ہو گئے۔آخر کوئی بتائے تو سہی کہ کیا قسام ازل نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ مسلمان جہاں جائیں گے وہاں کے اصلی باشندے تو زندہ رہیں گے اور ترقی کریں گے لیکن جہاں یورپین اقوام جائیں گی وہاں کے اصلی باشندے مر جائیں گے۔کہتے ہیں وہاں کے لوگ خود بخو دمر گئے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں مر گئے ؟ مسلمانوں کے پاس وٹامنز نہیں تھی لیکن یہ وٹا منز نکال کر بھی وہاں کے اصلی باشندوں کو مارتے جاتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا بہانہ ہے ورنہ کون شخص تسلیم کر سکتا ہے کہ مسلمانوں کے ماتحت ہزار سال میں تو وہ قو میں نہ مریں لیکن جہاں فرانسیسی یا انگریز گئے یا دوسری یورپین قو میں گئیں وہاں کے اصلی باشندے دو تین سو سال کے اندر اندر مرگئے۔بیشک افریقہ کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں بیماریاں پڑتی ہیں اور جن میں یورپین دس بارہ سال سے زیادہ نہیں رہ سکتے۔ایسے علاقوں کو چھوڑ دو جہاں بیماریاں پڑتی ہیں اور جہاں سے وہ حبشیوں کو نکال نہیں سکتے۔جیسے ویسٹ افریقہ ہے جہاں وبائیں بہت زیادہ پڑتی ہیں اسی لئے اس کا ناWHITE MEN'S GRAVE ہے یعنی سفید آدمی کی قبر۔جو انگریز بھی وہاں جاتا ہے آٹھ دس سال سے زیادہ وہاں نہیں رہ سکتا اور اگر رہے تو مر جاتا ہے اس لئے وہاں کے پادریوں کو آٹھ دس سال کے بعد بدل دیا جاتا ہے۔یہ ہمارے ہی مبلغ ہیں جو پندرہ سولہ سال سے متواتر کام کر رہے ہیں اور پھر بھی واپس جانے کے خواہشمند ہیں۔بہر حال انگریز وہاں آٹھ دس سال سے زیادہ نہیں رہ سکتے۔اس دوران میں بھی ایک دو سال کے بعد ان کو لمبی چھٹی مل جاتی ہے پھر بھی وہ مشکل سے اتنا عرصہ وہاں رہتے ہیں۔ان علاقوں کو تو یورپین لوگوں نے خود چھوڑ دیا ہے کیونکہ قبر میں رہنا کوئی پسند نہیں کرتا اور اس لئے وہاں کے اصلی باشندے وہاں موجود ہیں۔مگر ان قبروں کو چھوڑ کر باقی سارے علاقے جو اچھے ہیں اور جہاں ان کا قبضہ ہے وہاں انہوں نے اصلی باشندوں کو بالکل بے دخل کر دیا ہے اور ان کی اکثر