انوارالعلوم (جلد 18) — Page 201
۲۰۱ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام انوارالعلوم جلد ۱۸ صرف ایک استاد ایسا ہے جسے ترقی مل سکتی ہے۔میں نے کہا کہ سارے پنجاب میں میٹرک کے نتیجہ کی اوسط ۷۶ فیصدی ہے گورنمنٹ سکولوں کا نتیجہ ۹۹ فیصدی بلکہ بعض کا سو فیصدی ہے لیکن آپ کہتے ہیں کہ اوسط پر پانچ فیصدی زائد کرنے سے صرف ایک استاد کو ترقی مل سکتی ہے اچھا آپ اِن اُستادوں کو ترقیاں دے دیں جن کا نتیجہ اوسط کے برابر ہو۔تو وہ کہنے لگے کہ اِس قاعدہ کے ماتحت بھی صرف دو اُستاد آتے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ اچھا اوسط سے پانچ فیصدی کم پر ترقی دے دیں تو وہ کہنے لگے اس قاعدہ کے ماتحت بھی صرف چار اُستاد آتے ہیں۔اور اس پر میں نے انہیں کہا کہ کیا باقیوں کو جماعت کے لڑکے فیل کرنے کی خوشی میں ترقیاں دی جائیں؟ ہمارے استاد اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور لڑکوں کی نگرانی کی طرف کماحقہ توجہ نہیں کرتے۔اس میں شک نہیں کہ بہت حد تک نتیجہ کی ذمہ داری لڑکوں پر بھی ہے لیکن جہاں تک نگرانی کا تعلق ہے میں اس کی ذمہ داری اُستادوں پر ڈالتا ہوں کہ انہوں نے کیوں ان کی نگرانی نہیں کی۔جہاں تک شوق پیدا کرنے کا سوال ہے خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ طلباء کے لئے ایسے طریق سوچیں جن کی وجہ سے خدام میں تعلیم کا شوق ترقی کرے۔بہر حال نگرانی سب سے زیادہ ضروری چیز ہے۔پڑھائی کے وقت سب خدام گھروں میں بیٹھ کر پڑھائی کریں اور جو طالب علم باہر پھرتا ہوا پکڑا جائے اُس سے باز پرس کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدام اس پر عمل کریں تو جن طالب علموں کو باہر پھرنے کی عادت ہو وہ خود بخو دگھر میں سٹڈی کرنے پر مجبور ہونگے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ باہر تو پھر نہیں سکتے چلو کوئی کتاب ہی اُٹھا کر پڑھ لیں۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ ” جاندے چور دی لنگوٹی ہی سہی۔یعنی جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی اگر چور چوری کر کے بھاگا جارہا ہو اور تم اُس سے اور کچھ نہیں چھین سکتے تو اُس کی لنگوٹی ہی چھین لو آخر کچھ نہ کچھ تو تمہارے ہاتھ آجائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک فقیر تھا جو اکثر اُس کمرے کے سامنے جہاں پہلے محاسب کا دفتر تھا بیٹھا کرتا تھا۔جب اُسے کوئی آدمی احمد یہ چوک میں سے آتا ہوا نظر آتا تو کہتا ایک روپیہ دیدے، جب آنے والا کچھ قدم آگے آجاتا تو کہتا اٹھنی ہی سہی۔وہ کچھ اور آگے آتا تو کہتا چونی ہی سہی ، جب اُس کے مقابل پر آ جاتا تو کہتا دو آنے ہی