انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 135

۱۳۵ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید انوارالعلوم جلد ۱۸ بن جایا کرتے ہیں اور ان تنوں سے ہی شاخیں نکلتی ہیں اور شاخیں ہی پتے پیدا کیا کرتی ہیں اور اس طرح وہ ایک بڑا درخت بن جاتا ہے جس کے سائے کے نیچے سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسان آرام پاتے ہیں۔اسی طرح یہ ۷ ۸۰ یہ تو نہیں کہتا کہ نوجوان کیونکہ ان میں سے بعض عمر کے لحاظ سے بوڑھے بھی ہیں لیکن یہ روحانی نوجوان جو اس جگہ پڑھنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اگر ہم ان کو بیج کے طور پر تصور کر لیں اور سمجھیں کہ یہ اپنے اپنے وطن جا کر حقیقی بیج ثابت ہونگے ( بیج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کے اندر بڑھنے بڑھانے ، پھلنے اور پھولنے کی طاقت پائی جاتی ہو ) تو یہ لوگ سلسلہ کے لئے نہایت ہی مفید وجود ثابت ہو سکتے ہیں اور اسلام کی کھیتی کے لئے کھاد ثابت ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن شریف ہی دین کی جان ہے اس کو پڑھے پڑھائے بغیر کسی قسم کی ترقی کا خیال کر لینا ایک غلط خیال ہے۔حضرت خلیفہ اول عام طور پر عورتوں کے درس میں ایک چھوٹی سی مثال سنایا کرتے تھے۔وہ ایک نہایت ہی لطیف بات ہے اگر ہم چاہیں تو اس سے بہت بڑا سبق حاصل کر سکتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو! جب میں کہتا ہوں قرآن شریف پڑھو یا سنو تو تم یہ جواب دیا کرتی ہو کہ ہم پڑھی ہوئی نہیں حالانکہ اگر کسی عورت کا بچہ باہر گیا ہوا ہو اور اُس کے نام کا کارڈ باہر سے آئے تو جو پڑھی ہوئی ہوتی ہیں وہ تو اُس کو ایک دفعہ پڑھ کر سرہانے کے نیچے رکھ دیتی ہیں یا ٹرنک میں رکھ لیتی ہیں یا کسی طاق میں رکھ دیتی ہیں مگر جو ان پڑھ ہوتی ہیں اُن کو ایک دفعہ خط پڑھوا کر سننے سے تسلی نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی دوسرے کے پاس جاتی ہیں اور پھر اُس سے سنتی ہیں۔مثلاً جب ایک ان پڑھ عورت کے پاس خط آتا ہے تو پہلے وہ گاؤں کے ملا کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے مثلاً جی ! ذرا کارڈ پڑھنا میرے بیٹے کی طرف سے آیا ہے۔اُس سے سنتی ہے اور سمجھتی ہے کہ شاید کوئی لفظ ملا جی کی نگاہ سے رہ گیا ہویا شاید جلدی میں سارا مضمون نہ سنایا ہو ، پھر وہ دوڑی دوڑی چوہدری جی کی بیٹھک میں جاتی ہے اور کہتی ہے چوہدری جی ! ذرا یہ کارڈ تو سنا دینا میرے بیٹے کی طرف سے آیا ہے۔اُس سے خط سنتی ہے مگر پھر بھی تسلی نہیں ہوتی اور وہ پٹواری جی کے پاس چلی جاتی ہے اور کہتی ہے پٹواری جی! ذرا یہ خط تو سنا دینا میرے بیٹے کی طرف سے آیا ہے اُس سے سنتی ہے۔پھر وہ مدرس کے پاس