انوارالعلوم (جلد 18) — Page 106
انوار العلوم جلد ۱۸ 1+4 اسلام کا اقتصادی نظام کے ماتحت ترقی کرنے والی صنعت و حرفت تمام دوسرے ملکوں کے لئے ایسی خطرناک ثابت ہو گی کہ اس کے مقابلہ پر ٹرسٹ تو کیا کارٹلز بھی ایسے معلوم ہوں گے جیسے ایک دیو کے مقابلہ پر ایک پانچ سالہ لڑکا۔انگلستان کا ایک بڑا تاجر امریکہ کے ایک بڑے تاجر کا مقابلہ تو کر سکتا تھا اگر مقابلہ نہ ہو سکتا تھا تو انگلستان کے چند تا جر مل کر ایک ٹرسٹ بنا لیتے تھے۔اگر جرمنی کی سائنٹیفک مصنوعات کا مقابلہ امریکہ اور انگلستان کے صناعوں کے لئے مشکل ہوتا تو دونوں ملکوں کے تاجر مل کر ایک کارٹل کے حصہ دار ہو جاتے تھے مگر کمیونزم کی صنعت کا مقابلہ کوئی زبر دست سے زبر دست کارٹل بھی کس طرح کر سکتا ہے کیونکہ کمیونزم کے ترقی یافتہ کارخانوں کی مدد پر ایک یا دو تاجر نہ ہوں گے بلکہ سب ملک کی دولت ہوگی اور تاجروں کی دولت ہی نہ ہوگی روس کی ڈپلو میٹک فوج اور لڑنے والی فوج اور اس کا بحری بیڑا بھی ہو گا کیونکہ اس کے کارخانہ کی ناکامی کسی ایک فرد یا کمپنی کی ناکامی نہ ہوگی بلکہ خودروسی حکومت کی ناکامی ہوگی۔کیونکہ کمیونزم کے نظام صنعت و حرفت کے کارخانے حکومت کے قبضہ اور انتظام میں ہوں گے۔پس جس صنعت کو یہ مدد حاصل ہوگی اس کا مقابلہ غیر ملکوں کے تاجر یا ٹرسٹ یا کئی ملکوں کے اشتراک سے بنے ہوئے کا رٹلز بھی کس طرح کر سکتے ہیں۔پس رشین کمیونزم نے ایک نہایت خطر ناک کیپٹلزم کا راستہ کھولا ہے جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔اس کا مقابلہ اِن دو ہی صورتوں سے ہوسکتا ہے۔(1) سب دنیا ایک ہی نظام میں پروئی جائے یعنی سب ملک روسی حکومت کا جزو بن جائیں اور اس طرح آئندہ غیر مساوی مقابلہ کو بند کر دیں۔مگر کیا کمیونزم میں کوئی ایسے اشتراک کی گنجائش ہے؟ یا کیا غیر ملکوں کے لوگ مثلاً انگلستان، امریکہ ، فرانس کے لوگ اس امر کے لئے تیار ہیں کہ اس آئندہ آنے والے خطرہ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو روسی حکومت میں شامل کر دیں؟ اور کیا اس کی کوئی معقول امید ہے کہ اگر وہ ایسا کر بھی دیں تو وہ روسیوں کے ساتھ ہر جہت سے مساوی حقوق حاصل کر لیں گے؟ اگر یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں جیسا کہ میرے نزدیک ہر عقلمند انسان انہیں ناممکن کہے گا تو پھر یہ علاج تو بے کار ہوا۔(۲) دوسرا ممکن علاج اس خطرہ کا یہ ہوسکتا ہے کہ سب دنیا کے ملک کمیونزم سسٹم کے