انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 89

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۸۹ اسلام کا اقتصادی نظام مجھے اس بارہ میں کوئی تحقیقی علم نہیں اس لئے میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن انفرادی سودی بنکوں کا نہ ہونا اور سُود کو اصولی طور پر بُرا سمجھنا دونوں بالکل متبائن باتیں ہیں۔انفرادی سودی بنک کا نہ ہونا سامان میسر نہ آنے کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے۔اور بنگنگ کے اصول سے عام پبلک کی نا واقفیت کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے ،مصلحت وقتی کے ماتحت بھی ہوسکتا ہے۔جب سامان میسر آجائیں یا پبلک کا ترقی کرنے والا حصہ بنگنگ سسٹم سے آگاہ ہو جائے یا وقتی مصلحت بدل جائے تو انفرادی بنک ملک میں جاری ہو سکتے ہیں لیکن اگر کوئی قوم کسی بات کو اصولی طور پر بُرا سمجھتی ہے تو خواہ حالات بدل جائیں ، خواہ اس بات کا باریک اور عملی علم حاصل ہو جائے ، خواہ سامان کثرت سے مہیا ہوں وہ قوم اس بات کو کبھی اختیار نہیں کرے گی کیونکہ اُس کا اس بات کو ترک کرنا اصولی بناء پر تھانہ وقتی مشکلات یا وقتی مصالح کی بناء پر۔غرض روس میں اگر افراد سے لین دین کرنے والے بنک نہیں ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کیپٹلزم کی جڑ کو جو سو د ہے روس نے کاٹ دیا ہے۔میں نے کہا ہے کہ مجھے اس بارہ میں ذاتی علم نہیں لیکن ایک بات واضح ہے اور وہ یہ کہ کمیونزم کے لٹریچر میں سود کی ممانعت کا کوئی ذکر نہیں۔اور یہ بات مجھے اس بات کا دعوی کرنے کا حق دیتی ہے کہ کمیونزم سود کی اصولی طور پر مخالف نہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ روسی گورنمنٹ دوسری حکومتوں سے جو سود کے بغیر کوئی کام نہیں کرتیں روپیہ قرض لیتی ہے اس امر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمیونزم سود کی مخالف نہیں ہے بلکہ اس کے حق میں ہے۔کیونکہ اگر وہ سُود کے حق میں نہ ہوتی تو سو د پر رقوم قرض کیوں لیتی۔نیز موجودہ جنگ میں روس نے اپنے ملکی لوگوں سے بھی بہت روپیہ قرض لیا ہے۔میں قیاس کرتا ہوں کہ یہ روپیہ بھی سو د پر ہی لیا گیا ہے۔اگر میری یہ رائے درست ہے کہ کمیونزم سُود کے خلاف نہیں بلکہ اس کے حق میں ہے اور بہت سے واقعات میری رائے کی تائید کرتے ہیں تو یہ امر بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ روس میں سودی کاروبار کی کمی محض ایک وقتی امر ہے اور سابق نظام میں ایک غیر معمولی تغیر کا نتیجہ ہے لیکن جب کمیونسٹ لوگ روس سے باہر جانے لگیں گے تو وہاں کاروبار کے لئے وہ سُود پر روپیہ لیں گے اور جب ملک زیادہ ترقی کرے گا اور صنعت و حرفت اور زراعت ترقی کریں گے تو یورپ