انوارالعلوم (جلد 18) — Page 88
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۸۸ اسلام کا اقتصادی نظام کے ان لوگوں کے خلاف تمہارا جوش کس امر پر بنی ہے جو تم سے بہت کم آرام حاصل کر رہے ہیں اور جن کا حال در حقیقت تمہارے مزدوروں کا سا ہے۔تم سے جو درحقیقت حکومت کے گماشتے ہو ان کو کوئی نسبت ہی نہیں کیونکہ تمہاری دولت اور ان کے گزارہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔کمیونزم نظام قائم رکھنے کے (۴) چوتھا نقص اس نظام میں یہ ہے کہ جب بھی اس میں خرابی پیدا ہوئی اور اس تحریک پر زوال آیا لئے سونٹے کی ضرورت ملک میں ڈکٹیٹر شپ قائم ہوگی اور نتائج پہلے سے بھی خطرناک ہو جائیں گے۔وجہ یہ ہے کہ اس نظام میں قابلیت کو مٹا کر دماغ کو ضائع کر دیا گیا ہے اس لئے جب بھی تنزّل ہوگا یہ تحریک گلی طور پر گر جائے گی اور خلا کو پُر کرنے کے لئے سوائے ڈکٹیٹر کے اور کوئی چیز میسر نہ آئے گی۔جرمنی نے اگر ہٹلر کو قبول کیا تو کمیونسٹ میلانات کی وجہ سے، جو جرمنی میں شدت سے پیدا ہو رہے تھے۔فرانس کا تجربہ بھی اس پر گواہ ہے جب فرانس کے باغیوں میں تنزل پیدا ہوا تو اس کے نتیجہ میں نپولین جیسا جبار پیدا ہو گیا۔جمہور میں سے جمہوریت کا کوئی دلدادہ اس جگہ کو نہ لے سکا۔اسی طرح بے شک کمیونزم اپنی حکومت کو پرولی ٹیری ایٹ (PRPLETAROAT) کہہ لے یا اس کا نام ٹو ٹیلی ٹیرین TOTALITARIAN) حکومت رکھ لے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ نظام آخر چکر کھا کر ایک ڈکٹیٹر کی شکل اختیار کرلے گا بلکہ اس وقت بھی عملی رنگ میں یہی حالت ہے کیونکہ گو یہ لوگ اقتدار عوام کے حامی ہیں لیکن عملاً حکومت کا اقتدار عوام کے ہاتھ میں دینا پسند نہیں کرتے۔چنانچہ روس میں ایک منٹ کے لئے بھی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی بلکہ ڈکٹیٹر شپ ہی چلی جارہی ہے۔لینن پہلا ڈکٹیٹر تھا اب دوسرا ڈکٹیٹر سٹالن بنا ہوا ہے۔سٹالن کے بعد شاید موسیومولوٹوف ڈکٹیٹر بن جائیں گے اور جب مولوٹوف مرے تو کسی اور ٹوف یا خوف کی باری آ جائے گی۔بہر حال اس قسم کے نظام کو سونٹے کی مدد کے سوا کبھی قابو میں نہیں رکھا جا سکتا اور روس کا تجربہ اس امر پر شاہد ہے۔(۵) پانچواں نقص کمیونزم کے اقتصادی نظام میں یہ ہے کہ اس میں سود کی ممانعت کو بطور فلسفہ کے اختیار نہیں کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں انفرادی سودی بنک نہیں ہیں۔اس وقت تک