انوارالعلوم (جلد 17) — Page 59
انوار العلوم جلد کا ۵۹ تھا۔اس کے بعد اگر نوح دوسرے نبی ہوئے ہیں تو پھر نوح اس بات کا حق رکھتا تھا کہ لوگ اُس کے مشابہہ ہو جائیں۔کوئی چھوٹا نوح بن جائے اور کوئی بڑا نوح بن جائے مگر بہر حال نوح بننے کے بغیر نجات کی کوئی صورت نہیں تھی۔اسی طرح کرشن اور رام چندر کے زمانہ میں خدائی فیصلہ یہ تھا کہ جو لوگ کرشن اور رام چندر کے مشابہہ ہوتے چلے جائیں گے انہیں اس مشابہت کی وجہ سے قبول کر کے فضل اور رحمت کے دروازے میں داخل کر دیا جائے گا۔پھر جب وہ آخری زمانہ آیا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کیلئے مبعوث ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ اب صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی جنت میں جائیں گے اور یا پھر وہ لوگ جائیں گے جن کو خدا محمد کا نام دے دے گا۔ان میں وہ لوگ بھی شامل ہونگے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل بروز ہونگے ، وہ لوگ بھی شامل ہو نگے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جزوی بروز ہونگے ، وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جنہوں نے اخلاص اور محبت کے ساتھ اپنے دل پر نقش محمدی پیدا کرنے کی کوشش کی ، مگر اس کوشش میں انہیں پوری کامیابی حاصل نہ ہوئی۔اُنہوں نے اپنے آئینہ قلب پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر تو اُتار لی مگر وہ تصویر ایسی مصفی اور اعلیٰ درجہ کی نہ تھی جیسی مصفی اور اعلیٰ درجہ کی ہونی چاہئے تھی۔ایسے تمام لوگوں کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت کریں گے اور فرمائیں گے یا اللہ ! یہ بھی مجھ سے ملتا جلتا ہے، یا اللہ ! وہ بھی مجھ سے ملتا جلتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا بہت اچھا! ہم انہیں بھی جنت میں بھیج دیتے ہیں۔غرض ہر نبی کے زمانہ میں نجات کے اصل مستحق اُس نبی کے بروز ہوتے ہیں چاہے وہ ادنی بروز ہوں اور چاہے اعلیٰ بروز ہوں۔چنانچہ انبیاء کے نمونہ ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا فَكَيْفَ اذا جتنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سے یعنی اُس دن لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر جِتُنَا اُمت کے سامنے اُن کے نبی کو جسے نمونہ کے طور پر بھیجا گیا تھا پیش کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے یہ نمونہ تمہاری طرف بھیجا تھا۔اب تم جو کہتے ہو کہ ہمیں جنت میں داخل کیا جائے، تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے اپنے آپ کو کہاں تک اس نمونہ کے مطابق بنایا ہے۔اگر تم اس نمونہ کے مطابق ہمیں نظر آئے تو تمہیں قبول کر لیا جائے گا اور اگر تم اس نمونہ کے مشابہہ نظر نہ آئے تو ہم تمہیں ہے۔