انوارالعلوم (جلد 17) — Page 53
انوار العلوم جلد کا ۵۳ أسووحن مومن ہو محض اس وجہ سے کہ اُس نے اپنے منہ سے ایمان کا اظہار کر دیا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی جان کو قبول کر لے اور اُسے جنت میں داخل کر دے مگر ظاہر ہے کہ یہ معنی درست نہیں ہو سکتے کیونکہ اسلام نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ محض ایمان کا دعوی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل ނ چیز دل کا اخلاص اور وہ عمل ہے جو ایمان کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے۔پس جب کہ انفس ہر قسم کی جان مراد نہیں لی جاسکتی تو کوئی نہ کوئی معیار ایسا ہونا چاہئے جس کے مطابق لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ خدا تعالیٰ کسی قسم کی جان قبول فرمائے گا تا کہ اُس معیار اور اُس نمونہ کے مطابق لوگ اپنی جانوں کو بنانے کی کوشش کریں اور وہ سمجھ سکیں کہ اگر اس نمونہ کے مطابق ہماری جان ہوگی تو اللہ تعالیٰ اُسے قبول فرمالے گا اور اگر نہیں ہوگی تو اُسے رو کر دے گا۔یہ نمونہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے زمانہ کا نبی ہوتا ہے۔آدم کے زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اُن کی جانہیں خریدیں تو مطلب یہ تھا کہ سب لوگ آدم کے مشابہ ہو جائیں۔گویا آدم کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا کہ ہم یہ نمونہ تمہاری طرف بھیج رہے ہیں اس کے مطابق جو جانیں ہونگی وہ ہم قبول کر لیں گے۔پس آدم کے زمانہ میں جو جان آدم کے مطابق تھی وہی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی، دوسری کوئی جان اُس نے قبول نہیں فرمائی۔نوح کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ نوح کے مطابق اپنی جانیں لے آؤ میں انہیں قبول کرلوں گا۔ابراہیم کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ ابراہیم کے نمونہ کے مطابق اپنی جانیں لے آؤ میں تمہیں قبول کرلوں گا۔موسی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ موسی جیسے نفس میرے سامنے لے آؤ میں اُن نفوس کو قبول کرلوں گا۔اسی طرح ہندوستان میں اُس نے حضرت کرشن اور حضرت رام چندر کو بھیج کر اعلان فرما دیا کہ یہ لوگ میرے نمونہ ہیں ان کے مشابہہ اپنے آپ کو بنالو، میں تمہیں نجات دے دوں گا۔ایران میں اعلان فرما دیا کہ ہم زرتشت کو ایک نمونہ کے طور پر بھیج رہے ہیں اس کے مشابہہ اپنی جانوں کو بنا لو میں تمہیں جنت دینے کیلئے تیار ہوں۔عراق کے علاقوں میں اعلان فرما دیا کہ ایوب نبی کی طرح اپنے آپ کو بنا لو میں تم سے راضی ہو جاؤنگا۔غرض یہ سلسلہ آدم سے چلا اور چلتا چلا گیا۔کسی زمانہ میں خدا تعالیٰ نے داؤڈ کو نمونہ بنایا ،