انوارالعلوم (جلد 17) — Page 52
انوار العلوم جلد ۷ ۵۲ جب بھی اس قسم کی کوئی کمی ہو وہ لوگ جو حج مقرر ہوتے ہیں فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کمی اس قابل ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے یا یہ قابل گرفت کمی ہے۔اگر تو وہ کہہ دیں کہ یہ کمی ایسی نہیں جو قابلِ توجہ ہو اسے نظر انداز کرنا چاہئے اور اس چیز کو ویسا ہی سمجھ لینا چاہئے جیسے نمونہ ہے تو اُسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اگر زیادہ کمی ہو تو پھر اس کمی کے مطابق حرجانہ ڈال دیا جاتا ہے۔بہر حال جب کسی چیز کو قبول کیا جاتا ہے تو اُسی صورت میں قبول کیا جاتا ہے جب وہ نمونہ کے مطابق ہو یا اگر نمونہ کے پورے طور پر مطابق نہ ہو تو ایسی معمولی کمی ہو کہ لوگ کہہ دیں کہ یہ چیز ویسی ہی ہے تھوڑی بہت کمی نظر انداز کئے جانے کے قابل ہے۔اخلاقی امور میں اللہ تعالیٰ کے جس طرح دنیا کی اور چیزوں کے متعلق نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر نمونہ کے لین دین مکمل انبیاء دنیا کیلئے نمونہ ہوتے ہیں نہیں ہو سکتا اور انسان کو یہ تسلی نہیں ہو سکتی کہ میں نے نمونہ کے مطابق کام کر لیا ہے یا نہیں۔اسی طرح اخلاقی کاموں میں بھی کسی نمونہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ نمونہ ہمیشہ ہی انبیاء کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کیا جاتا ہے۔جیسا کہ باقی مذاہب بھی اس بات پر متفق ہیں کہ نبیوں کے ذریعہ ہی قوم کی اخلاقی اور روحانی ترقی ہوتی ہے جس جس زمانہ میں اللہ تعالیٰ اخلاق کے جس نمونہ کی خریداری چاہتا ہے نبی کے ذریعہ وہ نمونہ بھجوا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ایسا نمونہ چاہئے جو شخص اُس نمونہ کے مطابق اپنے آپ کو بنائے گا اُسے قبول کر لیا جائے گا اور جو اُس نمونہ کے مطابق نہیں ہوگا اُسے رد کر دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ انْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ، اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اُن کی جانیں اور اُن کے اموال لے لئے ہیں اور اس کے بدلہ میں اُن سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔اس آیت میں جو اَنفُس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اُس کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اُس سے ہر قسم کی جان مراد ہے یا بعض شرائط کے مطابق جان مراد ہے؟ اگر ہر قسم کی جان مراد لی جائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ خواہ کوئی منافق شخص ہو یا عملی لحاظ سے کتنا ہی کمزور