انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 604

انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۰۴ الموعود صرف تین بھائی تھے مگر پھر تین سے چار ہو گئے۔پھر اس لحاظ سے بھی میں تین کو چار کرنے والا ہوں کہ میں الہام کے چوتھے سال پیدا ہوا۔۱۸۸۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیشگوئی کی تھی اور ۱۸۸۹ ء میں میری پیدائش ہوئی۔۱۸۸۶ ء ایک ، ۱۸۸۷ ء دو، ۱۸۸۸ تین ، اور ۱۸۸۹ء چار۔گویا تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ میری پیدائش پیشگوئی سے چوتھے سال ہوگی اور اس طرح میں تین کو چار کرنے والا بنوں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۱۸۸۶ ء میں پیشگوئی ہوئی اور ۱۸۸۹ء میں اس پیشگوئی کے عین مطابق میری ولادت ہوئی۔تیسرا اعتراض ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ مامور کی پہلی زندگی پر اعتراض نہیں ہوتے لیکن میاں صاحب کی زندگی پر بڑے بڑے اعتراض ہوئے ہیں۔اُن کے دوست اور اُن کے نہایت مخلص مُرید ایک دو نہیں ، بیسیوں کی تعداد میں اُن پر نہایت گندے الزام لگاتے رہے ہیں۔مولوی صاحب نے یہ اعتراض کرتے ہوئے جس قسم کے الفاظ میرے متعلق استعمال کئے ہیں مجھے اُن کا شکوہ نہیں کیونکہ انسان کے جیسے اخلاق ہوتے ہیں ویسی ہی اس سے حرکات سرزد ہوتی ہیں۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب نے اپنے خیال میں یہ دلیل میرے خلاف دی ہے لیکن ہے میرے حق میں اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔دو تمہیں یادر ہے کہ ہر ایک کی شناخت اُس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے۔یا بعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے قابلِ اعتراض ٹھہرے“۔۴۸ یہ پیشگوئی تھی جو میرے متعلق پائی جاتی تھی کہ بعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے مجھے قابلِ اعتراض ٹھہرایا جائے گا۔اگر مولوی صاحب یہ اعتراض نہ کرتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوتی۔پس اُن کے اس اعتراض کے صرف اتنے معنی ہیں کہ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور پیشگوئی پوری ہوگئی۔