انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 30

انوار العلوم جلد ۱۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) دیا گیا ہے اس لئے میں ضرور تقریر کیلئے جلسہ گاہ میں آؤں گا۔آخر جب میں جلسہ گاہ میں پہنچا تو بعض معززین نے کہا کہ جلسہ میں فساد برپا کرنے کی پوری تیاریاں کی جاچکی ہیں اس جلسہ کو برخواست کر دیا جائے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تشریف لے جائیں کیونکہ خطرہ ہے ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہ ہو گا لیکن ہم چونکہ جلسہ عام کا اعلان کر چکے ہیں اس لئے اس ڈر سے کہ لوگ فساد برپا کرنا چاہتے ہیں جلسہ بند نہیں کر سکتے۔اس پر وہ لوگ بھی جلسہ ہی میں بیٹھے رہے اور اُنہوں نے جانا پسند نہ کیا۔آخر جب میری تقریر کا وقت ہوا اور میں تقریر کرنے کیلئے کھڑا ہوا تو چاروں طرف سے لوگ پتھر مارنے لگ گئے۔احباب جوش محبت سے میرے اردگرد جمع ہو گئے۔مگر باوجود ان کی حفاظت کے دو تین پتھر مجھے بھی لگے اور میز پر پتھروں کا ڈھیر لگ گیا۔اُس وقت ہم نے وہاں کے رؤساء سے کہہ دیا کہ آپ چلے جائیں اور وہ چلے گئے مگر اپنی جماعت کے لوگوں سے میں نے کہا ایسے موقع پر ہی انسان کی آزمائش ہوتی ہے تم سب لوگ بیٹھے رہو خواہ کچھ ہو صرف ڈاکٹر ز زخمیوں کو اُٹھانے اور پٹی کرنے کیلئے کھڑے ہوں۔چند ہی منٹوں میں ہمارے قریب پچیس آدمی زخمی ہو گئے۔تب حکام کو توجہ ہوئی اور اُنہوں نے پتھر مارنے والوں کو ہٹا دیا۔ہماری جماعت میں سے خدا کے فضل سے اُس وقت کوئی نہ بھاگا ممکن ہے کوئی گیا ہو لیکن میں تو کھڑا تھا میں نے کسی کو جاتے نہ دیکھا۔ہمارے آدمی جس طرح پیٹھیں کئے بیٹھے تھے اُسی طرح بیٹھے رہے۔ایک بھائی اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں اُنہوں نے پتھر مارنے والوں کو مغلظات سنانی شروع کر دیں۔میں نے انہیں روکا تو کہنے لگے میں تو احمدی نہیں ہوں۔اُس وقت وہ احمدی نہ تھے بعد میں انہوں نے بیعت کی۔وہ اس نظارہ کو دیکھ کر برداشت نہ کر سکے اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف بول اُٹھے۔غیر مبائعین کی انجمن کے سیکرٹری ہمارے کتنے مخالف تھے لیکن وہ رات کے ایک بجے اُس مکان پر پہنچے جہاں میں پڑا ہوا تھا اور یہ کہہ کر ملنے کی اجازت مانگی کہ جب تک میں ان سے مل نہ لوں گا سو نہ سکوں گا۔میں نے انہیں بلا لیا تو وہ کہنے لگے دنیا نے تیرہ سو سال قبل جو نظارہ بدر میں دیکھا تھا وہ آج ہم نے یہاں دیکھ لیا۔یہ نظارہ دیکھنے کے بعد میں گھر نہیں جا سکا کہ ان جذبات اور احساسات کا اظہار آپ سے کرنا ہے اور اسی غرض سے میں اس وقت آیا ہوں۔