انوارالعلوم (جلد 17) — Page 583
انوار العلوم جلد ۷ ۵۸۳ الموعود والے ہوتے ہیں تم سے یہ معمولی ٹرنک بھی نہیں اُٹھایا جاتا۔وہ کہنے لگا میں مزدور نہیں ہوں میں تو زمیندار ہوں اپنے گاؤں کا معزز شخص ہوں اور دولہا ہوں جو برات میں جار ہا تھا کہ مجھے راستہ میں تحصیلدار نے پکڑ لیا اور اسباب اُٹھانے کے لئے آپ کے پاس بھیج دیا۔میں نے اُسی وقت اُسے چھوڑ دیا کہ تم جاؤ ہم کوئی اور انتظام کر لیں گے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کس قد رادنی اور گری ہوئی حالت میں تھے۔میں نے خود کشمیر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سو دوسو کے قریب مسلمان جمع ہیں اور ایک ہندو اُن کو ڈانٹ رہا ہے اور وہ بھی کوئی افسر نہیں تھا بلکہ معمولی تا جر تھا اور وہ سارے کے سارے مسلمان اُس کے خوف سے کانپ رہے تھے۔تحریک کشمیر کے واقعات جب تحریک کشمیر کا آغاز ہوا اس وقت شملہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں میں بھی شامل ہوا۔سرا قبال اُس وقت زندہ تھے وہ بھی شریک ہوئے سرمیاں فضل حسین صاحب بھی موجود تھے۔ان سب نے مجھ سے کہا کہ اس بارہ میں آپ وائسرائے سے ملیں اور اس سے گفتگو کر کے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک کشمیر کے معاملات میں دخل دے سکتا ہے جس حد تک دہ دخل دے سکتا ہو اُس حد تک ہمیں یہ سوال اُٹھانا چاہئے۔چونکہ گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ ریاستی معاملات میں زیادہ دخل نہ دیا جائے اس لئے وائسرائے سے پہلے مل لینا ضروی ہے تا کہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ وہ کس حد تک ان معاملات میں دخل دے سکتے ہیں۔میں نے اُن سے کہا کہ میں اس مجلس میں اس شرط پر شریک ہو سکتا ہوں کہ وائسرائے سے نہیں بلکہ ہم کشمیریوں سے پوچھیں گے کہ تمہارے کیا مطالبات ہیں اور پھر ہم کوشش کریں گے کہ گورنمنٹ اُن مطالبات کو منظور کرے۔یہ طریق درست نہیں کہ وائسرائے سے پوچھا جائے کہ وہ کس حد تک دخل دے سکتا ہے بلکہ ہم سب سے پہلے کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور پھر اُن کے مطالبات کو پورے زور کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے رکھیں گے۔سر اقبال کہنے لگے پھر آپ ہی اس کمیٹی کے پریذیڈنٹ بن جائیں ہمیں آپ کی صدارت پر اتفاق ہے۔میں نے کہا میں پریذیڈنٹ بنا تو لوگ شور مچا دیں گے کہ ایک کا فر کو پریذیڈنٹ بنا لیا گیا ہے کسی اور کو بنا لیجئے۔وہ کہنے لگے میں تو