انوارالعلوم (جلد 17) — Page 556
انوار العلوم جلد کا ۵۵۶ الموعود 9966 شکل ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی لمبی سی زبان با ہر نکلی ہوئی ہے، کسی کے بال گھلے ہوئے ہیں، کسی کی آنکھیں حلقوں سے باہر نکل رہی ہیں اور وہ شکلیں طرح طرح سے مجھے ڈرانے کی کوشش کرتی ہیں۔مگر میں ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہوں اور جب میں یہ الفاظ کہتا ہوں تو یہ تمام جن اور بھوت غائب ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ میں منزل مقصود پر پہنچ گیا۔یہ رویا حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی زندگی میں ۱۹۱۳ ء کے شروع میں میں نے دیکھا تھا۔اُس وقت میں نے سمجھا کہ میری زندگی میں کوئی ایسا تغیر پیدا ہونے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص کام میرے سپرد کیا جائے گا۔دشمن مجھے اُس کام سے غافل کرنے کی کوشش کرے گا وہ مجھے ڈرائے گا، دھمکائے گا اور گالیاں دے گا مگر مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ میں اُن کی گالیوں کی طرف توجہ نہ کروں اور ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا منزلِ مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں۔یہی وجہ ہے کہ میرے ہر مضمون پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں کہ: ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ اس رؤیا کو دیکھو کہ کس طرح میری زندگی میں اس کا ایک ایک حرف پورا ہوا۔بار ہا لوگوں نے چاہا کہ وہ مجھے اپنی باتوں میں اُلجھا کر اصل مقصد سے غافل کر دیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی مجھے اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ میں اُن کے منصوبوں میں نہ آؤں اور خدا تعالیٰ نے میرے سپر د جو کام کیا ہے اُس کو کرتا چلا جاؤں۔مولوی محمد علی صاحب یا مولوی ثناء اللہ صاحب لغو اور بیہودہ شرائط پیش کر کے کہتے رہتے ہیں کہ ہمارے چینج کو قبول نہیں کیا جاتا مگر میں اُن کی اِن باتوں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ میرے خدا نے مجھے کہا کہ میں لغو باتوں میں اپنا وقت ضائع نہ کروں اور ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں۔آخر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتنی لغو بات ہے کہ عقائد پر بحث ہو تو میری جماعت میں سے حج مولوی محمد علی صاحب مقرر کریں اور اُن کی جماعت سے میں مقرر کروں۔بچے بھی ایسی بیہودہ بات نہیں کرتے مگر مولوی محمد علی صاحب ہمیشہ ایسی ہی باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے 66