انوارالعلوم (جلد 17) — Page 525
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۲۵ الموعود فرماتے ہیں۔"أَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ “ 66 اس کے بعد میں ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں۔چنانچہ اُس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا وہ یہ ہے۔وَانَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُهُ اور میں بھی مسیح موعود ہوں۔یعنی اُس کا مثیل اور اُس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب میں ہی مجھے پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں ؟ اُس وقت معا میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ میلہ میں اس کا نظیر ہوں۔وَخَلِیفَتُهُ اور اُس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن واحسان میں تیرا نظیر ہو گا اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اُس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہی ہوں۔کیونکہ جو کسی کا نظیر ہوگا اور اُس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گا وہ ایک رنگ میں اُس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔اور جب میں کہتا ہوں۔" میں وہ ہوں جس کے لئے اُنیس سوسال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں، تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں اور جو سات یا ۹ ہیں جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔مجھے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتی اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ”ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم اُنیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں۔اس کے بعد میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اِس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اُس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔رؤیا میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی ، اُس میں یہ بھی خبر تھی کہ