انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 514

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۴ الموعود تک کا تمام زمانہ ایک ہی سمجھا جاتا ہے اور جب دوسرا اما مور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مامور فلاں مامور کے ساتھ آیا۔مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں آئے اور انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔اب اُن کا زمانہ صرف اتنا ہی نہیں تھا جتنے عرصہ تک وہ زندہ رہے بلکہ چھ سو سال تک اُن کا زمانہ جاری رہا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے۔پس بیشک انبیاء علیہم السلام میں بعض دفعہ ایک نبی کو دوسرے نبی کے ساتھ آنے والا قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ اُن دونوں کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا ہے لیکن یہاں اس مثال کو اس لئے پیش نہیں کیا جا سکتا کہ بشیر اول مامور نہیں تھا بلکہ ایک بچہ تھا جو چند دن زندہ رہ کر فوت ہو گیا اس کے ذریعہ کوئی ایسا نشان قائم نہیں ہوا جو تین سو سال تک جاری رہتا۔اگر تو بشیر اول زندہ رہتا ، ماموریت کا دعویٰ کرتا اور پھر تین سو سال کے بعد دوسراماً مور آ جاتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ دوسراماً مور پہلے مامور کے ساتھ آیا۔درمیانی تین سو سال کے عرصہ کو بشیر اول کی ماموریت کا زمانہ قرار دے دیا جاتا۔مگر جس شخص کو صرف جسمانی حیات حاصل ہوئی ہے، ماموریت نہیں ملی ، اُس کے ساتھ آنے والا کبھی ایسے شخص کو نہیں کہا جا سکتا جو تین سو سال کے بعد ظاہر ہو۔پس بشیر اوّل اور بشیر ثانی کا تین سو سال کا وقفہ کسی طرح بھی درست ثابت نہیں ہوسکتا۔خوشی سے اُچھلنے کے الفاظ سے استنباط پھر فرماتے ہیں۔”اے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو۔بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔اس فقرہ کو بھی اگر اُس تشریح کی روشنی میں دیکھا جائے جس میں تین سو سال کے بعد مصلح موعود کا ظاہر ہونا بتایا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اے لوگو! تم حیرانی میں کیوں پڑتے ہوئے ہو آج سے تین سو سال کے بعد روشنی آنے والی ہے اور اے لوگو ! جو ظلمت میں اپنی عمریں گزار رہے ہو تم خوشی سے اُچھلو اور گو دو کیونکہ تین سو سال کے بعد روشنی ظاہر ہوگی۔اس کے جواب میں کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم کیوں اُچھلیں اور گو دیں۔اگر اُچھلنے کی